World
روشنی کی آلودگی اور جنگلی حیات پر اس کے تباہ کن اثرات
میساچوسٹس میں مصنوعی روشنی کی بڑھتی ہوئی شدت سے جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ محققین اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ روشنی کی یہ آلودگی کس طرح رات کے پرندوں اور جانوروں کے قدرتی طرز زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے گوشن علاقے میں واقع 'ڈٹرز آف دی امریکن ریوولیوشن' اسٹیٹ فارسٹ میں سیاح اور کیمپ لگانے والے افراد اکثر رات کے وقت ستاروں کا نظارہ کرنے جمع ہوتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں مصنوعی روشنی کے بے جا استعمال کے باعث رات کا اندھیرا تیزی سے ختم ہو رہا ہے، جس سے قدرتی آسمان کو دیکھنا ایک مشکل تجربہ بن گیا ہے۔ یہ روشنی کی آلودگی نہ صرف انسانی مشاہدے کو محدود کر رہی ہے بلکہ ریاست کے جنگلات میں بسنے والی جنگلی حیات کے لیے بھی ایک خاموش خطرہ بن چکی ہے۔
محققین کے مطابق، روشنی کی یہ اضافی آلودگی جانوروں اور پرندوں کے بائیولوجیکل کلاک کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ رات کے وقت فعال رہنے والے جانور، جنہیں شکار کرنے یا نقل مکانی کے لیے تاریکی کی ضرورت ہوتی ہے، روشنی کی شدت کے باعث الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر وہ پرندے جو ستاروں کی روشنی میں ہجرت کرتے ہیں، مصنوعی روشنیوں کی طرف راغب ہو کر اپنی سمت کھو بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ عمارتوں سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے ماحولیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ رات کے اوقات میں روشنی کے انتظام کو بہتر بنایا جائے۔
میساچوسٹس کے محکمہ تحفظِ جنگلات کی جانب سے کیے جانے والے مطالعے کے مطابق، صرف انسان ہی نہیں بلکہ پودوں کی نشوونما پر بھی مصنوعی روشنی کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رات کے وقت روشنی کا بہت زیادہ ہونا پودوں کے قدرتی چکر کو بدل دیتا ہے، جس سے ان کے پھول کھلنے اور نشوونما کے اوقات میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مقامی انتظامیہ اب عوامی آگاہی مہم چلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ 'ڈارک اسکائی' یعنی تاریک آسمان کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور روشنی کے غیر ضروری استعمال کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ہم اپنی اگلی نسل سے رات کے آسمان کا وہ خوبصورت نظارہ چھین لیں گے جو صدیوں سے انسانی تہذیب کا حصہ رہا ہے۔ روشنی کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اسمارٹ اسٹریٹ لائٹس، سینسرز کا استعمال اور ضرورت سے زیادہ روشنی والے بل بورڈز کو محدود کرنا ضروری ہے۔ یہ نہ صرف توانائی کی بچت میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ہمارے جنگلات میں پناہ لینے والی بے زبان مخلوق کو ایک پرسکون اور محفوظ ماحول بھی فراہم کرے گا۔