LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی پابندیاں: ٹرمپ انتظامیہ کا نیا عالمی معاشی منصوبہ

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی معیشت کو نشانہ بنانے کے لیے نئے اور سخت ترین عالمی پابندیوں کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ چین سمیت کوئی بھی ملک ان پابندیوں سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف عالمی سطح پر انتہائی سخت پابندیوں کے نئے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ایرانی معیشت پر دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اسے 'معاشی ڈی ڈے' قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کے مالیاتی نظام کو عالمی منڈیوں سے مکمل طور پر الگ کرنے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی جارحانہ اقدام کا سامنا ہے، جو اس کی ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا ہے۔ اس نئے پابندیوں کے پیکج کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ چین سمیت کوئی بھی ملک اس مرتبہ ان پابندیوں سے چھوٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔ ماضی میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر امریکی دباؤ کے باوجود کچھ استثنیٰ دیا جاتا رہا ہے، لیکن اب واشنگٹن نے اپنا مؤقف سخت کر لیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چین پر ان پابندیوں کے اثرات براہِ راست پڑیں گے کیونکہ بیجنگ ایران سے تیل کی درآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور اب امریکہ ان تمام راستوں کو مسدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اعلان کے بعد ایران کی مقامی کرنسی (ریال) کی قدر میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی ہے، جو ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایران میں معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ نئی پابندیاں مکمل طور پر نافذ کی گئیں تو ملک میں افراطِ زر کا طوفان آ سکتا ہے اور بنیادی اشیاء کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے تاحال اس پیش رفت پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ملکی میڈیا میں اس صورتحال کو 'معاشی جنگ' سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، امریکہ نے اپنے یورپی اور علاقائی اتحادیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہوں اور ایران کو تنہا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ عالمی سیاسی منظرنامے پر یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی یہ جارحانہ معاشی پالیسی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا خطے میں ایک نئی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔