Technology
جی ٹی اے 6 لیکس: راک اسٹار گیمز کی بڑی قانونی کارروائی
راک اسٹار گیمز نے جی ٹی اے 6 کے ڈیٹا لیکس کا سراغ لگانے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور ایکس کو قانونی نوٹس (سبپوینا) جاری کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد لیک ہونے والی معلومات کے ذمہ دار عناصر کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک کا پتہ لگانا ہے۔
مشہور زمانہ ویڈیو گیم سیریز 'جی ٹی اے' کے ڈویلپر ادارے 'راک اسٹار گیمز' نے اپنی آنے والی گیم 'جی ٹی اے 6' کے ڈیٹا لیکس کی تحقیقات کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے حال ہی میں گوگل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) کو قانونی نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے لیک ہونے والی خفیہ معلومات کے ماخذ تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کچھ عرصے سے گیم کے بارے میں اہم تفصیلات، ویڈیوز اور اسکرین شاٹس غیر قانونی طور پر انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہے تھے۔
راک اسٹار گیمز نے صرف گوگل اور ایکس تک ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ کمپنی نے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ کو بھی قانونی نوٹس بھیجے ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے پاس موجود اس ڈیجیٹل فٹ پرنٹ اور معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے جو لیک کرنے والے گروہ یا افراد نے استعمال کی تھی۔ گیمنگ انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے کمپنی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کا ملکیتی ڈیٹا کن ذرائع سے چوری ہوا اور اسے کس طرح پھیلایا گیا۔
دریں اثنا، گیمنگ کی دنیا میں 'جی ٹی اے 6' کے حوالے سے غلط معلومات اور فیک بلڈز کا پھیلاؤ بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر 113 جی بی کی لیکڈ فائلز ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ ان میں سے کئی فائلز دراصل میلویئر اور وائرسز پر مشتمل تھیں جن کا مقصد صارفین کے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانا تھا۔ راک اسٹار گیمز کی جانب سے کی جانے والی یہ سخت قانونی کارروائی اس بات کی عکاس ہے کہ کمپنی اپنے قیمتی اثاثے کو تحفظ فراہم کرنے اور مستقبل میں اس طرح کے سائبر حملوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔