World
امریکی عوام کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت اور ٹرمپ کی مقبولیت میں گراوٹ
ایک نئے سروے کے مطابق امریکی عوام میں ایران کے ساتھ جنگ کے لیے حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
امریکہ میں جاری ایک تازہ ترین رائے شماری کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے حوالے سے امریکی عوام کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست فوجی تصادم کی سخت مخالف ہے۔ اس رجحان کے پیچھے اہم وجوہات میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے جنگی تنازع کا خوف اور ملکی معیشت پر اس کے برے اثرات شامل ہیں۔ خاص طور پر ریپبلکن ووٹرز کی جانب سے جنگ کی حمایت میں گراوٹ نے سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب، ایندھن اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی امریکی عوام کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ کے باعث عام امریکی شہری اب بیرون ملک کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف داخلی پالیسیوں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت اپنے ریکارڈ نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام ان کی خارجہ پالیسی اور جنگی حکمت عملیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔
سروے کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عوامی ردعمل آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے معاملے پر کوئی جارحانہ اقدام اٹھایا گیا تو اس کے سیاسی نقصانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ امریکی عوام اب جنگ کے بجائے سفارتی حل اور معاشی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عوامی رائے کا یہ بدلتا ہوا رخ اس بات کا اشارہ ہے کہ ووٹرز اب ایسی پالیسیوں کے حق میں نہیں ہیں جو ملک کو ایک اور طویل اور غیر ضروری جنگ میں دھکیل سکیں۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وائٹ ہاؤس عوامی دباؤ کے پیش نظر اپنی حکمت عملی میں کس حد تک تبدیلی لاتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے عوامی تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو مقبولیت میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ امریکی عوام میں ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مسلح تنازعے کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک اپنی تمام تر توجہ داخلی مسائل اور معاشی بہتری پر مرکوز رکھے۔