World
مشہور فلسطینی مصور سلیمان منصور کا انتقال، فلسطینی مزاحمتی فن کا ایک دور ختم
فلسطینی جدوجہد اور مزاحمت کو اپنے فن پاروں کے ذریعے دنیا بھر میں اجاگر کرنے والے نامور مصور سلیمان منصور 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ اپنے فن کی بدولت فلسطینی شناخت اور استقامت کی ایک توانا آواز مانے جاتے تھے۔
فلسطینی آرٹ کی دنیا سے ایک بڑا نام رخصت ہو گیا ہے۔ معروف مصور اور فلسطینی مزاحمت کے استعارہ سمجھے جانے والے سلیمان منصور 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ سلیمان منصور نہ صرف ایک مصور تھے بلکہ وہ ایک ایسی توانا آواز تھے جس نے اپنے کینوس پر فلسطینی عوام کے دکھ، ان کی جدوجہد اور ان کی زمین سے محبت کو انتہائی مہارت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا فن فلسطینی شناخت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور انہوں نے دہائیوں تک اپنے کام کے ذریعے دنیا کو فلسطینیوں کے حالات سے آگاہ رکھا۔
سلیمان منصور کی زندگی کا بیشتر حصہ فلسطینیوں کے حقوق کی جدوجہد اور فن کی ترویج میں گزرا۔ ان کے مشہور ترین فن پاروں میں وہ تصاویر شامل ہیں جن میں فلسطینی عورتوں، زیتون کے درختوں اور دیہی زندگی کے مناظر کو علامت کے طور پر دکھایا گیا، جو اسرائیلی قبضے کے خلاف استقامت کی کہانی سناتے ہیں۔ ان کا اندازِ مصوری سادہ ہونے کے باوجود گہرے معانی کا حامل تھا، جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے قلم اور برش کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم ورثہ چھوڑا ہے۔
فلسطینی حلقوں اور دنیا بھر کے فن کے شائقین نے سلیمان منصور کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سلیمان منصور کی وفات سے فلسطینی فنونِ لطیفہ کو ایک بڑا خلا درپیش ہوا ہے جسے پر کرنا ممکن نہیں۔ ان کے کام کو اب بھی فلسطینی تاریخ کا ایک اہم حصہ مانا جاتا ہے جس میں انہوں نے امید، مزاحمت اور وطن واپسی کے خوابوں کو رنگوں میں سمویا۔ سلیمان منصور اپنے فن کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے فلسطینی جدوجہد کو لازوال بنا دیا ہے۔
ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کئی بین الاقوامی اداروں نے انہیں اعزازات سے بھی نوازا تھا۔ سلیمان منصور نے اس بات کو یقینی بنایا کہ فلسطینی عوام کی آواز آرٹ گیلریوں کے ذریعے دنیا کے ہر کونے تک پہنچے۔ ان کی وفات پر فلسطینیوں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایک ایسا عظیم سپاہی کھو دیا ہے جس نے قلم اور برش سے ظلم کے خلاف جنگ لڑی۔ ان کی زندگی ان تمام آرٹسٹوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی جو فن کو انسانی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔