LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر اور محسن نقوی کا دورہ ایران: اہم پیشرفت

News Image
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا اہم دورہ مکمل کیا ہے جس کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا ایک روزہ اہم دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اس دورے کے دوران وفد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی معاملات اور خطے میں قیام امن کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا اور پڑوسی ممالک کے درمیان جاری تعلقات کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ ملاقات کے دوران دونوں اطراف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشاورت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، جنرل عاصم منیر اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو میں بارڈر سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، جاری بین الاقوامی تناؤ کے تناظر میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان اور ایران تاریخی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اور اس قسم کے اعلیٰ سطحی رابطے دونوں ممالک کے دفاعی اور سفارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ وفد نے اپنے دورے کے اختتام پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس دورے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنرل عاصم منیر اور محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات نہ صرف سیکیورٹی کے معاملات پر پیش رفت لائے گی بلکہ تجارتی اور اقتصادی روابط کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی روابط انتہائی ضروری ہیں اور یہ دورہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔