LIVE
Loading Breaking News...

عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال پر تشویش

News Image
قانونی ماہرین نے وفاقی اپیل عدالتوں کے حالیہ تحریری فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مشکوک نشانات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ پیشرفت عدالتی دستاویزات کی تیاری میں اے آئی ٹولز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
حال ہی میں قانونی حلقوں میں ایک انتہائی دلچسپ اور اہم بحث کا آغاز ہوا ہے جب وفاقی اپیل عدالتوں کے شائع شدہ فیصلوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔ معروف قانونی ماہر اور لیہوتسکی کوہن ایل ایل پی کے پارٹنر جوش مورو کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالتوں کے تحریری فیصلوں کے انداز اور اسلوب میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو انسانی تحریر کے بجائے اے آئی ماڈلز کی ساخت سے مماثلت رکھتی ہیں۔ اس انکشاف نے قانونی ماہرین اور عدالتی نظام سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ آیا عدالتی فیصلوں کی تیاری میں ٹیکنالوجی کا کتنا عمل دخل ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، عدالتی فیصلوں میں استعمال ہونے والی زبان، جملوں کی ساخت، اور دلائل کے پیش کرنے کا انداز مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کی خصوصیات سے ملتا جلتا ہے۔ خاص طور پر قانونی نکات کی وضاحت اور کیس کے خلاصے بیان کرتے وقت ایک مخصوص 'روبوٹک' اسلوب دیکھا گیا ہے جو انسانی ججوں کی روایتی قانونی تحریر سے کافی مختلف ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب عدالتی فیصلوں کی شفافیت اور احتساب کو ایک بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ اگر جج یا ان کے عملے کی جانب سے فیصلوں کی تحریر میں اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے فیصلوں کی قانونی حیثیت اور ان کی غیر جانبداری پر کوئی اثر پڑے گا۔ مزید برآں، قانون کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن عدالتی فیصلوں کی سطح پر اس کا نفوذ ایک حساس موضوع ہے۔ قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز اگرچہ قانونی تحقیق میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن کسی عدالتی حکم نامے کو تحریر کرنے کے لیے ان پر انحصار کرنا قانونی اخلاقیات کے منافی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اے آئی ماڈلز اکثر غلط معلومات فراہم کرنے (Hallucination) کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لیے اہم عدالتی فیصلوں میں ان کا استعمال قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اس حوالے سے اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ عدالتوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ ضابطہ اخلاق مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ عدالتی فیصلوں کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔