LIVE
Loading Breaking News...

فلک سیفٹی: عوامی تحفظ اور ڈیجیٹل پرائیویسی کا نیا چیلنج

News Image
فلک سیفٹی کے سی ای او گیرٹ لینگلی نے عوامی تحفظ اور انفرادی پرائیویسی کے مابین ایک متوازن راستہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بیان کمپنی کو درپیش بڑھتی ہوئی تنقید اور نگرانی کے جدید نظاموں پر عوامی تحفظات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
فلک سیفٹی (Flock Safety) کے سی ای او گیرٹ لینگلی نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو عوامی تحفظ اور انفرادی پرائیویسی کے درمیان ایک مستحکم سمجھوتہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ گیرٹ لینگلی کے مطابق، جب لوگ صرف ایک پہلو یعنی یا تو پرائیویسی یا پھر تحفظ پر بات کرتے ہیں، تو وہ حقیقت میں ایک دوسرے پر ترجیح دے رہے ہوتے ہیں، جبکہ ایک متوازن معاشرے کے لیے دونوں کا باہمی تال میل ضروری ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے، لیکن یہ عمل شہریوں کی آزادیوں کو سلب کیے بغیر ممکن ہونا چاہیے۔ کمپنی کو درپیش حالیہ تنقید کا مرکز اس کے نگرانی کرنے والے کیمرے اور خودکار لائسنس پلیٹ ریکگنیشن سسٹم ہیں، جو مختلف شہروں اور کمیونٹیز میں جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر نگرانی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے، جس سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، فلک سیفٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی صرف سنگین جرائم جیسے کہ گاڑیوں کی چوری، اغوا اور پرتشدد وارداتوں کو حل کرنے میں پولیس کی مدد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اور اس کا ڈیٹا ایک محدود مدت کے بعد خود بخود ڈیلیٹ کر دیا جاتا ہے۔ گیرٹ لینگلی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے منفی اور مثبت پہلوؤں پر کھلی بحث کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک پرائیویسی اور سیکیورٹی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے لیے جدید آلات کا استعمال صرف اس صورت میں قابل قبول ہو سکتا ہے جب اس کے گرد سخت قانونی دائرہ کار اور شفافیت کے معیارات موجود ہوں۔ ان کا مقصد ایسی پالیسیوں کی تشکیل ہے جہاں پولیس کو مجرموں تک پہنچنے میں مدد ملے اور عام شہریوں کو اپنی پرائیویسی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی خوف نہ ہو۔ آنے والے وقتوں میں یہ بحث مزید زور پکڑنے کا امکان ہے کیونکہ جیسے جیسے اے آئی (AI) اور نگرانی کی جدید تکنیکیں عام ہو رہی ہیں، پرائیویسی کے تحفظ کے تقاضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ فلک سیفٹی کے سی ای او کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب عوامی دباؤ کو محسوس کر رہی ہیں اور مستقبل میں انہیں حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے اصول وضع کرنے ہوں گے جو انسانی حقوق اور جدید سیکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کر سکیں۔