Technology
مصنوعی ذہانت: سیم الٹمین نے ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کے خطرات سے خبردار کر دیا
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم الٹمین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا چند بڑی کمپنیوں کے کنٹرول میں جانا عالمی سطح پر تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے فیصلوں میں عام صارفین کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم الٹمین نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل کے حوالے سے اپنے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ الٹمین کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی فکر لاحق ہے کہ آنے والے وقتوں میں اے آئی جیسی طاقتور ٹیکنالوجی کا کنٹرول صرف چند بڑی کمپنیوں، مخصوص ماڈلز یا چند بااثر افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو دنیا کی بھاری اکثریت، جو کہ دراصل اس ٹیکنالوجی کے صارفین ہیں، اس کے ارتقائی عمل میں اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھے گی۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیم الٹمین نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ انسانی تاریخ میں سب سے تیزی سے بدلنے والا میدان ہے، اور اگر اس پر چند اداروں کی اجارہ داری قائم رہی تو یہ جمہوریت اور عوامی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ اس کے فیصلے شفاف ہوں اور اس میں عام صارفین کی رائے اور شمولیت کو بھی اہمیت دی جائے تاکہ ٹیکنالوجی کسی ایک سمت میں جھک کر معاشرتی توازن نہ بگاڑ دے۔
مزید برآں، سیم الٹمین نے کہا کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ضوابط (Regulations) کے حوالے سے بھی بحث جاری رہنی چاہیے تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف منافع کمانے والی کمپنیوں کے کنٹرول میں نہ رہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس ٹیکنالوجی کو تمام انسانیت کے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ایک متوازن فریم ورک کی ضرورت ہے، جہاں چھوٹے ڈویلپرز اور عام صارفین کو بھی اے آئی کے مستقبل کو تشکیل دینے کا حق حاصل ہو۔ الٹمین کے یہ خدشات اس وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں بڑے ٹیکنالوجی اداروں کے درمیان اے آئی کی دوڑ میں شامل ہونے کا مقابلہ عروج پر ہے، جس سے مستقبل میں طاقت کے ارتکاز کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔