LIVE
Loading Breaking News...

ایس اینڈ پی 500 اور ٹریژری بانڈز کا موازنہ: مالیاتی منڈیوں میں بڑی تبدیلی

News Image
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس ایس اینڈ پی 500 کے ڈیویڈنڈ ریٹس 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی آمدنی سے کم ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال 2007 کے بعد پہلی بار دیکھی گئی ہے جس سے سرمایہ کاروں کی حکمت عملی میں تبدیلی متوقع ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ ریٹس 10 سالہ امریکی ٹریژری نوٹس سے ملنے والی آمدنی سے نیچے گر گئے ہیں۔ یہ رجحان 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار سامنے آیا ہے، جس نے سرمایہ کاری کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کو نئی حکمت عملیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ روایتی طور پر، بہت سے سرمایہ کار اسٹاکس کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ وہ بہتر منافع فراہم کرتے تھے، لیکن اب حالات بالکل مختلف رخ اختیار کر چکے ہیں۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ٹریژری بانڈز پر حاصل ہونے والے منافع میں اضافہ ہے۔ جب بانڈز پر ملنے والا منافع اسٹاکس کے ڈیویڈنڈ سے زیادہ ہو جاتا ہے، تو خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو باقاعدہ اور محفوظ آمدنی کے خواہشمند ہوتے ہیں، بانڈز ایک زیادہ پرکشش آپشن بن جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاکس کی تعداد جو اب بانڈز سے زیادہ منافع دے رہی ہے، بہت کم ہو کر رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ کے اندر رسک اور ریوارڈ کا تناسب تبدیل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ایکویٹی مارکیٹ کی ویلیوایشنز پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ جب سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ سے اپنا سرمایہ نکال کر بانڈز کی طرف منتقل کریں گے، تو اس سے شیئرز کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاری کے ادارے اب اپنی پورٹ فولیو مینجمنٹ میں تبدیلیاں لا رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی شرح سود کے ماحول میں زیادہ سے زیادہ منافع کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کمپنیاں اپنے ڈیویڈنڈز میں اضافہ کرتی ہیں یا پھر سرمایہ کار مکمل طور پر بانڈز مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ معاشی منظرنامہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار اب زیادہ محتاط ہو چکے ہیں۔ 2007 کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو اتنی بڑی تعداد میں بانڈز کی جانب راغب ہوتے دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی تبدیلی لگتی ہے، لیکن اس کے اثرات براہ راست عالمی مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر مرتب ہوں گے، جس سے آنے والے وقت میں اسٹاکس کی قدر میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔