Sports
ہولس سٹیسی کی یو ایس سینئر ویمنز اوپن میں شاندار واپسی
72 سالہ لیجنڈری گالفر ہولس سٹیسی نے یو ایس سینئر ویمنز اوپن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ 25 کھلاڑیوں میں شمولیت اختیار کی۔ کندھے کی سرجری اور طویل وقفے کے باوجود ان کی یہ کارکردگی کھیل کے میدان میں عزم و ہمت کی بہترین مثال ہے۔
گولف کی دنیا کی عظیم لیجنڈ اور ہال آف فیمر ہولس سٹیسی نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ 72 سال کی عمر میں، وہ یو ایس سینئر ویمنز اوپن کے فائنل راؤنڈ میں سب سے معمر کھلاڑی کے طور پر میدان میں اتریں اور ٹاپ 25 کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ ان کی یہ کارکردگی نہ صرف ان کی تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ ان کے ناقابل یقین عزم اور کھیل سے لگاؤ کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
یاد رہے کہ ہولس سٹیسی نے سن 2000 میں اپنے کندھے کی تبدیلی کی سرجری کروائی تھی، جس کے بعد انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ اب وہ مزید 50 ہزار میل چلنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس بیان نے ان کے حوصلے کی عکاسی کی تھی جو اب اتنے برس گزرنے کے بعد بھی برقرار ہے۔ اتنی بڑی سرجری کے باوجود، انہوں نے خود کو فٹ رکھا اور گالفرز کے لیے ایک مثال بنیں کہ عمر صرف ایک عدد ہے اگر انسان میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو۔
فائنل راؤنڈ میں ان کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹیسی کا اندازِ کھیل اب بھی بہت پرسکون اور درست ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے جس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا اور اپنی پوزیشن مستحکم رکھی، وہ آنے والی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ یو ایس سینئر ویمنز اوپن میں ان کی ٹاپ 25 میں شمولیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھیل کے میدان میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی اگر آپ میں محنت کرنے کا مادہ موجود ہو۔
ہولس سٹیسی کی کامیابی پر عالمی سطح پر گالفرز اور کھیل کے تجزیہ کاروں نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سٹیسی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی کھیل سے لطف اندوز ہو رہی ہیں اور مستقبل میں مزید مقابلوں میں شرکت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کیریئر کامیابیوں سے بھرا ہوا ہے اور یہ حالیہ کارکردگی ان کے تابناک ماضی میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ کرتی ہے۔