LIVE
Loading Breaking News...

وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان اہم ملاقات

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کر کے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے حکومتی امور اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے نواز شریف کو حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور ملکی اقتصادی حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اس نشست میں دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی حکمت عملی اور حکومتی امور پر کھل کر گفتگو کی۔ اس ملاقات کا مرکزی ایجنڈا ملکی معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو حکومتی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ پارٹی قائد نے انہیں عوامی ریلیف اور ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ سیاسی مبصرین اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے دونوں رہنماؤں کا باہمی مشورہ اور اتفاق رائے حکومت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید برآں، ملاقات میں اتحادی حکومت کے مستقبل اور سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں کا محور عوام کی بہتری اور مہنگائی میں کمی ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ حکومت ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے دن رات کوشاں ہے اور تمام تر توجہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس ملاقات سے سیاسی حلقوں میں یہ پیغام گیا ہے کہ پارٹی کی قیادت موجودہ صورتحال میں مکمل ہم آہنگ ہے اور فیصلوں میں تسلسل موجود ہے۔ آخر میں، دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو درپیش داخلی اور خارجی مسائل کے حل کے لیے قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفاد پر ترجیح دی جائے گی۔ ملاقات کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں آئندہ چند دنوں میں اہم سیاسی فیصلے متوقع ہیں۔ یہ پیش رفت آنے والے وقت میں ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی لہر پیدا کر سکتی ہے، جس سے حکومت اور پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔