LIVE
Loading Breaking News...

صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی ملاح، اسحاق ڈار کی آئی ایم او سے مدد طلب

News Image
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی ملاحوں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ یہ ملاح اپریل 2026 سے صومالیہ کے ساحل پر قید ہیں اور شدید طبی و غذائی بحران کا شکار ہیں۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے لندن میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی، جس میں صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود 10 پاکستانی ملاحوں کی بازیابی کے لیے ہنگامی اور موثر ادارہ جاتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے سیکرٹری جنرل کا ان کوششوں میں حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا جو ان ملاحوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ ملاح Palau کے پرچم بردار آئل ٹینکر 'ایم ٹی آنر 25' کا عملہ تھے، جسے 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اغوا کے چار ماہ گزر جانے کے باوجود مذاکرات یا تاوان کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق قزاقوں کی جانب سے 3 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ مغویوں کی بگڑتی ہوئی صحت تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران عملے کے ارکان نے کئی ویڈیو اور آڈیو پیغامات جاری کیے ہیں جن میں انہوں نے صاف پانی، خوراک اور ادویات کی کمی کی دہائی دی ہے۔ اس معاملے میں ایک بڑی رکاوٹ 'مالکانہ بحران' ہے، کیونکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جہاز کا اصل مالک کون ہے اور ماضی میں جسے مالک سمجھا جا رہا تھا وہ صرف ایک درمیانی آدمی نکلا جس نے عملے کو بھرتی کیا تھا۔ ان 10 پاکستانیوں کے علاوہ عملے میں سات انڈونیشی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل ہے۔ ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے آئی ایم او کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا اور محفوظ، محفوظ اور موثر بین الاقوامی شپنگ کے لیے آئی ایم او کے کردار کو سراہا۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے سمندری گورننس کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی سمندری معیارات کے نفاذ اور پاکستان کی 'بلیو اکانومی' کی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کی جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔ دونوں رہنماؤں نے میری ٹائم سیکیورٹی، ریگولیٹری اصلاحات اور پاکستان کے سمندری شعبے کی ترقی کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ اسحاق ڈار چار روزہ سرکاری دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں جہاں وہ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کے ایک نئے ڈھانچے کی تشکیل پر بات چیت کرنا ہے۔ وزیر خارجہ کی جانب سے قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال ملاحوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا اس سنگین مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔