LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی اسپیکر کا ڈونلڈ ٹرمپ پر طنزیہ حملہ، 'Make America Hungry Again' کا نعرہ

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے دعووں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں 'میک امریکہ ہنگری اگین' کا طنزیہ جملہ لکھا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ امریکی صدر کے جھوٹے بیانات حقائق کو چھپا نہیں سکتے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے دعووں پر شدید طنز کرتے ہوئے ایک نیا نعرہ متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اور میڈیا پلیٹ فارمز پر 'میک امریکہ ہنگری اگین' (Make America Hungry Again) کا جملہ لکھ کر ٹرمپ کے مشہور انتخابی نعرے 'میک امریکہ گریٹ اگین' کا مذاق اڑایا ہے۔ قالیباف کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار اور ان کی فتوحات کے دعوے سراسر جعلی ہیں جو حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھوٹے بیانات کا سہارا لینا دراصل امریکی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر امریکہ کی بدلتی ہوئی پوزیشن اور معاشی صورتحال کو محض الفاظ کے جادو سے نہیں بدلا جا سکتا۔ قالیباف نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ اور اعداد و شمار اتنے ہی غیر حقیقی ہیں جتنا کہ ان کا اپنا سیاسی بیانیہ، اور ایرانی قیادت امریکی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والی نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کو اپنے اندرونی مسائل اور معاشی بحران پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ ایران کے خلاف بے بنیاد دعوے کرنے چاہییں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ٹویٹ ایران کی جانب سے ٹرمپ کی واپسی پر سخت ردعمل کا پہلا اشارہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران مستقبل میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سخت پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تہران ٹائمز اور دیگر سرکاری میڈیا ذرائع نے بھی قالیباف کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اسے امریکی پالیسیوں پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ایرانی اسپیکر کا یہ طنزیہ انداز نہ صرف ایران میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں لوگ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس بیان کا کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آتا ہے یا نہیں۔ تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس طنزیہ جملے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا، تاہم یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک نئی تلخی کا اضافہ ثابت ہو رہا ہے۔