LIVE
Loading Breaking News...

یمن کے حوثی باغیوں کا بحیرہ احمر میں سعودی جہاز پر حملہ

News Image
یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ایک بڑے آئل ٹینکر کو بحیرہ احمر میں نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا ہے۔ واقعے کے بعد خطے میں بحری ٹریفک کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر بحیرہ احمر میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ایک بڑے سعودی آئل ٹینکر پر حملہ کر دیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سعودی بندرگاہ ینبع کے مغرب میں 63 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے لیے کسی نامعلوم پروجیکٹائل کا استعمال کیا گیا، جس سے آئل ٹینکر کو نقصان پہنچا۔ سعودی شپنگ کمپنی نے بھی اپنے جہاز پر حملے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد سے علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بحیرہ احمر اور باب المندب کی تنگ گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس بن چکی ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف سعودی عرب کے لیے ایک سیکیورٹی چیلنج ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی لائنوں کے تحفظ پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ٹینکر کے عملے کو پہنچنے والے جانی نقصانات کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ علاقائی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بحری جہازوں پر ہونے والے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات خلیجی ممالک کی اقتصادی تنصیبات اور بحری تجارت کے لیے بڑے خطرے کا باعث ہیں۔ سعودی قیادت نے اپنے جہازوں اور بحری حدود کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب یمنی حوثی باغی اس طرح کے حملوں کو اپنی عسکری حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس سے بحیرہ احمر میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری اب اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر فوری اقدامات کی متقاضی ہے تاکہ عالمی تجارت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔