Technology
نوجوان ہیکرز اور پولیس کا اقدام، سائبر کرائم سے بچاؤ کی نئی کہانی
برطانیہ میں پولیس کا سائبر پریوینٹ پروگرام کم عمر ہیکرز کو مجرمانہ سرگرمیوں سے روک کر ان کی صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں استعمال کر رہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوجوان ہیکرز نے بتایا کہ کس طرح اس پروگرام نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
سائبر دنیا میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک منفرد اور مثبت حکمت عملی اختیار کی ہے۔ برطانیہ میں پولیس کا 'سائبر پریوینٹ' نامی پروگرام ایسے نوجوانوں اور لڑکوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہا ہے جو سائبر کرمنلٹی یا غیر قانونی ہیکنگ کی طرف راغب ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی نوجوان ہیکرز نے اپنے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ کس طرح پولیس نے ان کی مخفی صلاحیتوں کو سزاؤں کے ذریعے دبانے کے بجائے انہیں مثبت سمت میں استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ یہ پروگرام ان نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہو رہا ہے جو کمپیوٹر اور کوڈنگ کی دنیا میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں لیکن غلط صحبت یا معلومات کی کمی کی وجہ سے قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان محض تجسس یا چیلنج کی خاطر ہیکنگ کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے یہ اقدامات کتنے بڑے قانونی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ سائبر پریوینٹ ٹیم ایسے نوجوانوں کی شناخت کرتی ہے اور ان کی کاؤنسلنگ کے ذریعے انہیں سائبر سیکیورٹی کے قانونی اور تعمیری شعبوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف نوجوانوں کو اپنے ہنر کو نکھارنے کا موقع مل رہا ہے بلکہ وہ معاشرے کے لیے ایک مفید اثاثہ بھی بن رہے ہیں۔ اس پروگرام کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سختی کے ساتھ ساتھ اگر بروقت رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو مجرمانہ رجحانات کو روکا جا سکتا ہے اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں نوجوان ذہنوں کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔