World
ممیانمار بحران: فوجی راج کے خلاف انقلاب کا مستقبل اور موجودہ صورتحال
ممیانمار میں فوجی جنٹا کے خلاف اٹھنے والی عوامی بغاوت اور انقلاب کی امیدیں اب انتہائی کٹھن دور سے گزر رہی ہیں۔ ملک بھر میں جمہوریت پسند حلقے مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ فوجی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
ممیانمار میں فوجی آمریت کے خلاف اٹھنے والی ملک گیر تحریک اس وقت ایک انتہائی نازک اور مایوس کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ جب فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تھا، تو ملک کے طول و عرض میں لاکھوں عام شہریوں، طلباء اور کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کیا تھا۔ اس وقت عوام کے دلوں میں یہ پختہ یقین تھا کہ یہ عوامی انقلاب ملک کے سیاسی نظام کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا اور ایک حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھے گا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک مختلف اور زیادہ تاریک رخ اختیار کر لیا ہے۔
فوجی جنٹا کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس ریاستی جبر اور طاقت کے بے پناہ استعمال نے عوام کے حوصلے کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی مسلح مزاحمتی گروہ اور نسلی تنظیمیں فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، تاہم مجموعی طور پر ملک میں ایک گہری تھکن اور مایوسی کا احساس پھیل رہا ہے۔ عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے اور معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
بین الاقوامی برداری کی طرف سے بھی اس بحران کے حل کے لیے وہ مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ سفارتی کوششیں سست روی کا شکار ہیں اور فوجی حکمران اندرونی مخالفت کے باوجود اقتدار پر قابض ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر انقلاب کی کامیابی کے آثار مدھم پڑ چکے ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں جمہوریت کی جو چنگاری سلگ اٹھی ہے اسے مکمل طور پر بجھانا آسان نہیں ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مزاحمتی قوتیں طویل المدتی حکمت عملی کے ذریعے اس جبر کا مقابلہ کر پاتی ہیں یا نہیں، لیکن فی الحال میانمار کے عوام کے لیے یہ دن انتہائی کٹھن اور آزمائش سے بھرپور ہیں۔