LIVE
Loading Breaking News...

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی ستارے کے ذریعے کوانٹم راز فاش کر دیے

News Image
بین الاقوامی ماہرین فلکیات نے ناسا کی مدد سے ایک نایاب مقناطیسی ستارے کے مطالعے کے ذریعے کوانٹم طبیعیات کے ایک اہم مظہر ویکیوم بائی ریفرنجنس کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت کائنات کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدانوں کو سمجھنے میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گی۔
ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے حال ہی میں کائنات کے ایک انتہائی پراسرار اور نایاب ستارے 'میگنیٹر' (Magnetar) کا مشاہدہ کرتے ہوئے کوانٹم طبیعیات کے ایک قدیم معمہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ناسا کی امیجنگ ایکس رے پولاری میٹرک ایکسپلورر (IXPE) دوربین کا استعمال کرتے ہوئے، سائنسدانوں نے 1E 1547.0–5408 نامی میگنیٹر پر تحقیق کی۔ اس مشاہدے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان روشنی اور خلا کے رویے پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ تحقیق کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے جس مظہر کا مشاہدہ کیا اسے 'ویکیوم بائی ریفرنجنس' (Vacuum Birefringence) کہا جاتا ہے۔ کوانٹم الیکٹرو ڈائنامکس (QED) کے نظریے کے مطابق، جب مقناطیسی میدان ایک حد سے زیادہ طاقتور ہو تو خالی خلا بھی روشنی کے لیے ایک شیشے یا لینس کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے، جس سے گزرنے والی روشنی دو مختلف سمتوں میں مڑ جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ صرف ایک نظریاتی دعویٰ تھا، لیکن اس میگنیٹر کے گرد موجود انتہائی طاقتور مقناطیسی میدانوں نے اس نظریے کی عملی تصدیق کا موقع فراہم کیا ہے، جو ماضی میں لیبارٹریوں میں ممکن نہیں تھا۔ میگنیٹر دراصل نیوٹران ستاروں کی ایک ایسی قسم ہے جن کے مقناطیسی میدان عام ستاروں کے مقابلے میں کروڑوں گنا زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ ستارے اتنی توانائی خارج کرتے ہیں کہ ان کے گرد موجود خلا میں بھی عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ IXPE کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ خلا صرف ایک خالی جگہ نہیں بلکہ یہ کوانٹم اثرات سے بھرپور ہے۔ یہ دریافت نہ صرف کوانٹم میکینکس کے نظریات کو مزید مستحکم کرتی ہے بلکہ مستقبل میں کائنات کے گہرے رازوں کو سمجھنے کے لیے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب ماہرین فلکیات امید کر رہے ہیں کہ وہ دیگر میگنیٹرز کا بھی اسی طریقے سے مطالعہ کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ مظہر کائنات میں ہر جگہ موجود ہے یا اس کا انحصار ستاروں کی مخصوص حالتوں پر ہے۔ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کوانٹم دنیا اور کائناتی طبیعیات کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے بالآخر انسان کو کائنات کی وسعتوں اور ان میں موجود توانائی کے حقیقی ذرائع کو سمجھنے میں بے پناہ مدد ملے گی۔