LIVE
Loading Breaking News...

وڈسائیڈ براؤز گیس پروجیکٹ: ماحولیاتی خدشات اور حکومتی منظوری کا تنازع

News Image
آسٹریلیا میں وڈسائیڈ کمپنی کے براؤز گیس منصوبے کے خلاف ماہرین، ماہی گیروں اور تحفظِ ماحول کے کارکنوں نے سخت احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے منصوبے میں ممکنہ آئل اسپِل کے خطرات کو جان بوجھ کر کم دکھایا ہے۔
آسٹریلیا کی توانائی کی بڑی کمپنی وڈسائیڈ کا 30 ارب ڈالر مالیت کا متنازع 'براؤز گیس منصوبہ' ایک بار پھر شدید عوامی اور ماحولیاتی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ماہرین، مقامی ماہی گیروں اور تحفظِ ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ایک مضبوط اتحاد نے اس منصوبے کے خلاف نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ وڈسائیڈ کمپنی نے اپنے منصوبے کی دستاویزات میں ممکنہ طور پر سمندر میں تیل کے اخراج (آئل اسپِل) کے سنگین خطرات کو انتہائی حد تک کم کرکے پیش کیا ہے تاکہ منظوری کا عمل تیز کیا جا سکے۔ اس اتحاد کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر اس منصوبے کے دوران تیل کا کوئی بڑا اخراج ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی سمندری حیات بلکہ ان ماہی گیروں کے روزگار پر بھی پڑیں گے جو طویل عرصے سے اس خطے پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، وڈسائیڈ کی جانب سے پیش کردہ ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ میں سائنسی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے حفاظتی انتظامات کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اس منصوبے کی حتمی منظوری کے قریب ہے۔ دوسری جانب وڈسائیڈ کمپنی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا منصوبہ تمام تر بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کے مطابق ہے اور اسے حتمی شکل دینے سے قبل تمام ضروری حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم، کارکنان کا کہنا ہے کہ کمپنی کا منافع کمانے کا لالچ آسٹریلیا کے قیمتی سمندری ایکو سسٹم کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ اب یہ معاملہ آسٹریلوی حکام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کیونکہ ایک طرف معاشی ترقی کی ضرورت ہے تو دوسری طرف عوامی دباؤ اور ماحولیاتی تباہی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے حوالے سے مزید عدالتی اور عوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا، کیونکہ ماحولیاتی تنظیمیں قانونی چارہ جوئی کے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہیں۔ یہ تنازع ثابت کرتا ہے کہ توانائی کے بڑے منصوبوں کے لیے اب صرف معاشی اعداد و شمار کافی نہیں، بلکہ ماحولیاتی پائیداری کی ساکھ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت کو اب اس منصوبے کی منظوری دیتے وقت عوامی تحفظات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا بصورتِ دیگر یہ منصوبہ طویل قانونی لڑائیوں میں الجھ سکتا ہے۔