LIVE
Loading Breaking News...

موبائل فونز اور ختم ہوتے ہوئے پرانے تجربات

News Image
موبائل فونز کی ہمہ وقت دستیابی نے انسانی زندگی کے کئی ایسے پرانے اور سادہ تجربات کو ختم کر دیا ہے جو کبھی روزمرہ کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ ٹیکنالوجی کی اس یلغار نے ہمیں سہولت تو دی ہے لیکن زندگی سے سکون اور تنہائی کے لمحات چھین لیے ہیں۔
آج کے دور میں یہ کہنا کہ موبائل فونز ہر جگہ موجود ہیں، بالکل ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ آسمان نیلا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس حقیقت پر توجہ بھی نہیں دیتے کہ یہ چھوٹی سی مشینیں ہماری روزمرہ زندگی کا کتنا گہرا حصہ بن چکی ہیں۔ ایک وقت تھا جب انسان اپنے دن کے کچھ حصے مکمل طور پر تنہائی یا بغیر کسی ڈیجیٹل رابطے کے گزارتا تھا، لیکن اب ہم ہر وقت آن لائن اور دسترس میں رہتے ہیں۔ اس مسلسل رابطے نے انسانی زندگی کے کئی ایسے تجربات کو ختم کر دیا ہے جو ماضی میں ایک عام سی بات ہوا کرتے تھے۔ سب سے پہلا بڑا فرق 'انتظار' کی کیفیت کا ختم ہونا ہے۔ پہلے زمانے میں کسی کا انتظار کرنا یا بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر ارد گرد کے ماحول کو دیکھنا ایک فطری عمل تھا۔ اب ہم ہر خالی لمحے کو فون اسکرین پر سکرولنگ کے ذریعے پر کر دیتے ہیں، جس سے بوریت کا خاتمہ تو ہوا ہے لیکن ہماری تخلیقی سوچ اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 'راستے بھول جانا' اب ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ گوگل میپس نے ہمیں ہر منزل تک پہنچنے میں مدد تو دی ہے، مگر اب ہم اپنے ارد گرد کے ماحول یا راستوں کو پہچاننے کی زحمت نہیں کرتے، جس سے انسان کی قدرتی سمت شناسی کی حس کمزور پڑ گئی ہے۔ تیسرا بڑا نقصان 'مکمل توجہ' کے ساتھ کسی سے گفتگو کرنے کا فقدان ہے۔ اب ہم جب کسی سے ملتے ہیں تو بھی ہماری نظریں بار بار فون کی اسکرین پر ہوتی ہیں، جس سے سماجی رابطوں کی گہرائی ختم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، اب فلمیں یا ڈرامے دیکھنے کا تجربہ بھی بدل چکا ہے؛ پہلے ہم پوری توجہ سے ٹی وی دیکھتے تھے، اب 'سیکنڈ اسکریننگ' یعنی فون استعمال کرتے ہوئے فلم دیکھنا ایک عام عادت بن گئی ہے۔ اسی طرح، اب کتابیں پڑھنا یا اخبار کا مطالعہ کرنا بھی ڈیجیٹل نوٹیفکیشنز کی وجہ سے مسلسل خلل کا شکار رہتا ہے۔ آخر میں، یادداشت کا بوجھ بھی مشینوں نے سنبھال لیا ہے۔ ہمیں اب کسی کا فون نمبر یاد رکھنے یا راستے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ سب کچھ فون میں محفوظ ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ شاندار ہے، لیکن اس نے انسانی دماغ کو کم فعال بنا دیا ہے۔ ہم اب کسی لمحے کو کیمرے میں قید کرنے کی جلدی میں اس لمحے کو جینا بھول جاتے ہیں۔ موبائل فونز نے ہمیں ایک ایسی دنیا میں لاکھڑا کیا ہے جہاں سب کچھ دسترس میں تو ہے، لیکن زندگی کی سادگی اور پرسکون لمحات کہیں کھو گئے ہیں۔