Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ
امریکا کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی اسٹاک مارکیٹس ملے جلے رجحانات کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ مہنگائی کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں حالیہ دنوں کے دوران ایک غیر یقینی اور ملے جلے رجحانات کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکا کی جانب سے ایران پر نئی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس غیر متوقع کمی کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں رسد اور طلب کا توازن بگڑنا اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ ہے۔ ایران پر پابندیوں کے باوجود تیل کی قیمتوں کا کم ہونا عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
دریں اثنا امریکی اسٹاک مارکیٹس بھی ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہیں۔ وال سٹریٹ پر حصص کے کاروبار میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی متوقع تقریر اور امریکا میں مہنگائی کے نئے اعداد و شمار کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی تشویش ہے۔ مارکیٹ ماہرین اسے ’اکنامک ڈی ڈے‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جہاں معاشی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے پیش نظر سرمایہ کار کسی بھی بڑے فیصلے سے گریز کر رہے ہیں۔ حصص بازار میں موجود اس تناؤ نے نجی شعبے کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرمایہ کار اس غیر مستحکم صورتحال میں سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی معیشت کی پالیسیوں اور بین الاقوامی سیاسی کشیدگی کے اثرات مزید واضح ہوں گے۔ جہاں ایک طرف تیل کی قیمتوں میں کمی صارفین کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، وہیں توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے یہ صورتحال منافع میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔ عالمی منڈی کے یہ اتار چڑھاؤ آنے والے وقت میں مزید معاشی چیلنجز کی نشاندہی کر رہے ہیں جن پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔