LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی برنہم کا کیف کا دورہ: روس کی دھمکیوں کے بعد برطانیہ کا سخت موقف

News Image
برطانیہ کی جانب سے ڈرون فراہم کرنے اور روسی علاقوں پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران اینڈی برنہم کی کیف آمد۔ برطانوی رہنما یوکرین کے یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور کیف کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔
برطانیہ کے اہم رہنما اینڈی برنہم نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا ہے، تاکہ روس کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے باوجود یوکرین کے ساتھ برطانیہ کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جا سکے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ماسکو کی جانب سے برطانیہ کے فراہم کردہ ڈرون کے ذریعے روسی تنصیبات پر حملوں پر سخت ناراضگی اور جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اینڈی برنہم کا یہ دورہ علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد مغربی دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ برطانیہ یوکرین کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ کیف پہنچنے پر اینڈی برنہم نے یوکرین کے یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کی اور جنگ سے متاثرہ عوام کے حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی عسکری امداد، بشمول ڈرون ٹیکنالوجی، صرف اپنے دفاع کے حق کے تحت استعمال ہو رہی ہے۔ روسی حکام کا ماننا ہے کہ برطانیہ کی براہِ راست شمولیت تنازعہ کو مزید ہوا دے رہی ہے، جس پر انہوں نے لندن کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ تاہم، برطانوی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی خودمختاری کی حفاظت عالمی قانون کے مطابق ایک جائز مقصد ہے۔ اس دورے کے دوران اینڈی برنہم نے یوکرینی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں بھی کیں جن میں مستقبل میں سیکورٹی تعاون اور انسانی امداد کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا یہ اقدام نہ صرف یوکرین کے مورال کو بلند کرے گا بلکہ مغربی اتحادیوں کے اتحاد کو بھی مضبوط کرے گا۔ دوسری جانب روس کی جانب سے برطانوی موقف پر شدید ردعمل ظاہر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی اور ڈرون حملے جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ مستقبل قریب میں خطے کے حالات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ روس کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت اور مغرب کی جانب سے یوکرین کی حمایت میں اضافے کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اینڈی برنہم کے اس دورے کے بعد برطانیہ اور روس کے سفارتی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، تاہم لندن کی جانب سے یوکرین کے لیے اپنی حمایت برقرار رکھنے کا عزم اس بات کی واضح علامت ہے کہ برطانیہ اس جنگ میں یوکرین کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔