LIVE
Loading Breaking News...

سر کرس ہوائے کی کینسر اسکریننگ کے بارے میں اہم بات

News Image
مشہور سائیکلنگ لیجنڈ سر کرس ہوائے کا کہنا ہے کہ مردوں کو پروسٹیٹ کینسر کے ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینا صرف نامور شخصیات کا کام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے حوالے سے آگاہی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
مشہور برطانوی سائیکلنگ لیجنڈ سر کرس ہوائے نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران پروسٹیٹ کینسر کی اسکریننگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مردوں کو ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینے کا تمام تر بوجھ صرف ان جیسے معروف افراد پر نہیں ہونا چاہیے۔ بی بی سی اسکاٹ لینڈ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، سر کرس ہوائے نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صحت عامہ کے اہم معاملات میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اکثر نامور شخصیات کی طرف دیکھا جاتا ہے، جبکہ یہ ایک اجتماعی سماجی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پروسٹیٹ کینسر جیسے خاموش مرض کی بروقت تشخیص کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ سر کرس ہوائے، جو خود اپنی صحت کے حوالے سے چیلنجوں کا سامنا کر چکے ہیں، کا ماننا ہے کہ کینسر کے بارے میں عوامی آگاہی مہمات کو مزید وسیع اور مربوط ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، صرف کسی مشہور شخصیت کا تجربہ شیئر کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ صحت کے عالمی اداروں، حکومتوں اور نجی شعبے کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے مردوں میں بروقت طبی معائنے کی عادت پیدا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک کینسر کے ٹیسٹ کروانے کو ایک معمول کا طبی عمل نہیں بنایا جائے گا، تب تک اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہوگا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مردوں میں عموماً ڈاکٹر کے پاس جانے اور صحت کے مسائل پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے، جسے ختم کرنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر تعلیمی مہم کی ضرورت ہے۔ سر کرس ہوائے نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنی آواز کو اس اہم مقصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس تحریک کو انفرادی شخصیت سے ہٹ کر ایک قومی ایجنڈے کے طور پر دیکھا جائے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ صحت کے مسائل میں غفلت برتنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے اور بروقت تشخیص ہی اس کا واحد موثر علاج ہے۔ آخر میں، سر کرس ہوائے نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ بیان حکومتی سطح پر اور طبی شعبے میں ایک نئی بحث کا آغاز کرے گا تاکہ پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے عمل کو مزید آسان اور قابل رسائی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام مردوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی عمر کے ایک مخصوص حصے میں پہنچنے کے بعد باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے کو بروقت پہچانا جا سکے۔ صحت سے متعلق آگاہی کا یہ سفر ایک طویل عمل ہے جس میں ہر فرد کا اپنا کردار ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔