LIVE
Loading Breaking News...

ایسبسٹاس اور کینسر کا خطرہ: ایک بیٹی کا اپنے اسکول سے سوال

News Image
کیرولائن برائن کو ناقابل علاج کینسر کی تشخیص کے صرف تین ماہ بعد انتقال ہو گیا جس کا تعلق ایسبسٹاس سے جوڑا گیا ہے۔ اب ان کی بیٹی یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا ان کی والدہ کو درپیش یہ مہلک خطرہ ان کے اسکول کی عمارت سے پیدا ہوا تھا۔
کیرولائن برائن کی المناک موت نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں اور پرانی عمارتوں میں موجود خطرناک مادے 'ایسبسٹاس' کے حوالے سے بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ کیرولائن، جو کہ اپنی زندگی کے چالیسویں عشرے میں تھیں، کو ایک ایسے ناقابلِ علاج کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کا براہِ راست تعلق ایسبسٹاس کے ذرات سے جوڑا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے تشخیص کے بعد صرف تین ماہ کا وقت دیا تھا، جس کے بعد وہ اپنے پیاروں کو داغِ مفارقت دے گئیں۔ اس واقعے کے بعد ان کی بیٹی نے اس المناک صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی والدہ کو درپیش یہ مہلک خطرہ کہاں سے آیا۔ اب ایک اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس کینسر کی بنیادی وجہ ان کا اسکول تھا جہاں انہوں نے اپنے بچپن کے اہم سال گزارے۔ دنیا بھر میں کئی پرانی عمارتوں اور خاص طور پر اسکولوں میں انسولیشن کے لیے ایسبسٹاس کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ اب یہ مادہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے، لیکن پرانے ڈھانچوں میں اس کی موجودگی اب بھی ہزاروں افراد کے لیے خاموش قاتل بنی ہوئی ہے۔ جب عمارتیں پرانی ہو جاتی ہیں یا ان میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے تو ایسبسٹاس کے باریک ذرات ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں جو سانس کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں جا کر کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ کیرولائن کی بیٹی کا ماننا ہے کہ اگر اسکولوں کی تعمیرات میں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا گیا تھا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ اس کیس نے حکومتی سطح پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ تمام پرانی سرکاری اور نجی عمارتوں، خاص طور پر تعلیمی مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا جائے تاکہ ایسبسٹاس کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسبسٹاس سے ہونے والی بیماریوں کی علامات برسوں بعد ظاہر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے۔ یہ سانحہ محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عوامی صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں کی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبہ اور اساتذہ کسی بھی ایسے خطرناک ماحول میں نہ رہیں جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکے۔ کیرولائن برائن کی بیٹی کا عزم ہے کہ وہ اپنی والدہ کی موت کے بعد اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کریں گی تاکہ دوسرے خاندان اس درد سے بچ سکیں اور تعلیمی ادارے محفوظ مقامات بن سکیں۔