World
امریکہ کا ایچ ون بی ویزا پالیسی میں سخت تبدیلی کا فیصلہ
ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی ویزا کے لیے فیس کو 103,265 ڈالر تک بڑھانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی ورکرز کے اخراجات میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدام ایک عارضی ضابطے کو مستقل قانونی حیثیت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے جسے پہلے عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا۔
امریکہ کی موجودہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت پالیسی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اس ویزا کی فیس میں بھاری اضافہ کر کے اسے 103,265 ڈالر تک پہنچانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کمپنیوں اور غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکی لیبر مارکیٹ کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور غیر ملکی ورکرز پر انحصار کو محدود کرنا ہے۔ اس تجویز کے بعد اب کمپنیاں کسی بھی ہنر مند غیر ملکی کارکن کو امریکہ بلانے سے قبل دس گنا زیادہ اخراجات کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوں گی۔ اس نئی تجویز کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت ایک ایسے عارضی ضابطے کو مستقل قانون کی حیثیت دینا چاہتی ہے جسے ماضی میں مختلف قانونی حلقوں اور عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالتوں کی جانب سے ماضی میں اس پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، لیکن اب انتظامیہ اسے ایک مستحکم پالیسی کے طور پر نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ماہرین معاشیات اور امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فیسوں کا تعین حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور یہ امریکہ کی کاروباری مسابقت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایچ ون بی ویزا کے ذریعے ہر سال ہزاروں آئی ٹی پروفیشنلز، انجینئرز اور سائنسدان امریکہ جاتے ہیں جو امریکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیسوں میں اس قدر بڑے پیمانے پر اضافے سے امریکی کمپنیوں کے لیے عالمی ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ اسے 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا حصہ قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں اور بزنس کمیونٹی کی جانب سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر قانونی جنگ مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ متعدد تنظیمیں اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔