World
امریکہ ایران کشیدگی بے معنی ہے، سابق سفارت کار باربرا لیف کی تنبیہ
امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں سابق سفارت کار باربرا لیف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں تنازع کو بڑھانا کسی بھی فریق کے حق میں نہیں ہے۔
واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، متحدہ عرب امارات میں امریکہ کی سابق سفارت کار باربرا لیف نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ محاذ آرائی کو 'بالکل بے معنی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عسکری یا سیاسی دباؤ کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی کوششیں خطے میں مزید بحران پیدا کر رہی ہیں، جن سے گریز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حالیہ ہفتوں میں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے عالمی برادری بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سابق امریکی سفارت کار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے مابین تعلقات انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی پالیسی ساز حلقوں میں بھی موجودہ محاذ آرائی کے طویل مدتی اثرات اور نتائج پر گہرے تحفظات پائے جاتے ہیں۔
باربرا لیف نے اپنے تجزیے میں واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کو باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے۔ فوجی کارروائیاں یا کشیدگی میں مسلسل اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے خطے کا امن شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اس بحران کو کم کرنے کے لیے اپنا مصالحانہ کردار ادا کرے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اندر سے اس قسم کے بیانات کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنگی جنون اور تنازعات کے متبادل کے طور پر امن اور مذاکرات کی راہ کو اپنانے کی آوازیں اب بلند ہو رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا نہیں، کیونکہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال مزید کسی بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔