LIVE
Loading Breaking News...

AI میں انقلاب: 22 ماہ میں مصنوعی ذہانت 100 گنا تیز

News Image
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے جہاں نئے ماڈلز کوڈنگ اور کارکردگی میں حیران کن نتائج دکھا رہے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آنے والے 22 ماہ کے دوران ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار موجودہ سطح سے 100 گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے اور حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار ہر گزرتے دن کے ساتھ دوچند ہو رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایک خفیہ 'آکس الفا' ماڈل سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ چین کا نیا جی ایل ایم (GLM) اوپن سورس ماڈل ہے۔ یہ ماڈل کوڈنگ کے مشکل ترین ٹیسٹ بینچ مارکس میں 80 فیصد کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر چکا ہے، جبکہ دیگر بڑے ماڈلز جیسے کلاڈ یا جی پی ٹی کی کارکردگی 60 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نہ صرف بہتر ہو رہے ہیں بلکہ پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ہارڈویئر کے میدان میں اینویڈیا (Nvidia) کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ کمپنی کی جانب سے ایک نئے 'ہارنس' سسٹم کا تعارف کروایا گیا ہے جس نے کارکردگی کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس نئی پیش رفت کے بعد ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اگلے 22 ماہ کے دوران 100 گنا تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ تیزی نہ صرف کمپیوٹنگ کی طاقت میں اضافے کا نتیجہ ہے بلکہ الگورتھمز کی تربیت کے طریقوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں جو ڈیٹا کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہیں۔ اس ترقی کا اثر نہ صرف سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ بلکہ سائنس، طب اور انجینئرنگ کے شعبوں پر بھی گہرا مرتب ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے ماڈلز کی کوڈنگ کی صلاحیت بہتر ہوتی جا رہی ہے، خودکار نظاموں کے ذریعے نئے سافٹ ویئر بنانے کا عمل سستا اور تیز تر ہوتا جائے گا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ترقی کی یہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے دو سالوں کے اندر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں ہمارے تمام پرانے اندازے تبدیل ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا دور ہے جہاں انسان اور مشین کا باہمی اشتراک نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے، جس کا مقصد انسانی زندگی کو زیادہ آسان اور ٹیکنالوجی کو زیادہ ذہین بنانا ہے۔