LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں وائی فائی ملی میٹر ویو ٹیکنالوجی کی توسیع اور جیم ٹیک کے منصوبے

News Image
بھارتی ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر نے جیم ٹیک کی وائی فائی ملی میٹر ویو فکسڈ وائرلیس ایکسس ٹیکنالوجی کے لیے پروویژنل جنیرک ریکوائرمنٹ جاری کر دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کمپنی بھارت میں اپنی مصنوعات کی ترسیل کو 100 گنا تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بھارت میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں وائی فائی ملی میٹر ویو (mmWave) فکسڈ وائرلیس ایکسس (FWA) ٹیکنالوجی کے ٹرائلز کو باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے ذیلی ادارے، ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر (TEC) نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر پروویژنل جنیرک ریکوائرمنٹ (PGR) جاری کر دی ہے۔ یہ قدم بھارت میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کو عام کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے جیم ٹیک (Gemtek) جیسی عالمی سطح پر کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھارتی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے مواقع مزید روشن ہو گئے ہیں۔ جیم ٹیک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس ریگولیٹری منظوری کے بعد کمپنی اپنی مصنوعات کی ترسیل اور شپمنٹس میں 100 گنا تک اضافے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف بھارت میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مقامی سطح پر انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بھی نمایاں بہتری لائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملی میٹر ویو ٹیکنالوجی، جس کی فریکوئنسی بہت زیادہ ہوتی ہے، خاص طور پر گنجان آباد علاقوں میں تیز رفتار براڈ بینڈ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک بہترین حل ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ یہ دستاویز تکنیکی معیارات اور پروٹوکولز کا تعین کرتی ہے جس کے تحت کمپنیاں اپنے آلات کو ٹیسٹ کر کے مارکیٹ میں متعارف کروا سکیں گی۔ اس سے جیم ٹیک کو اپنے FWA آلات کو بڑی تعداد میں بھارتی صارفین تک پہنچانے کا قانونی جواز ملے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس ٹیکنالوجی کے کمرشل استعمال میں تیزی آئے گی اور صارفین کو فائبر آپٹک جیسی رفتار وائرلیس طریقے سے میسر ہوگی۔ یہ پیش رفت بھارت کے ڈیجیٹل انڈیا کے ویژن کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں وائرلیس ٹیکنالوجی کے مینوفیکچررز کے لیے ایک نئی منڈی کے دروازے بھی کھولے گی۔