LIVE
Loading Breaking News...

مرکزی بینک کا فن ٹیک اور کلاؤڈ رسک مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ

News Image
مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی بینک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فن ٹیک کمپنیوں اور کلاؤڈ سروس پرووائیڈرز پر اپنی نگرانی سخت کرے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر ان شعبوں میں ممکنہ خطرات پر قابو پانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور ماہرین کی جانب سے مرکزی بینک (CBN) پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نگرانی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے۔ اس مطالبے کا بنیادی مقصد فن ٹیک کمپنیوں، کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر تکنیکی شراکت داروں کی جانب سے پیدا ہونے والے ممکنہ مالیاتی خطرات کا بروقت سدِباب کرنا ہے۔ مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے انحصار نے جہاں سہولیات میں اضافہ کیا ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی اور آپریشنل خطرات کو بھی جنم دیا ہے جن پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مالیاتی نظام میں فن ٹیک کمپنیوں کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، لیکن ان اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پیچیدہ کاروباری ماڈلز مرکزی بینک کے لیے نگرانی کا چیلنج بن سکتے ہیں۔ کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرنے والی بینکنگ ایپلی کیشنز اور ڈیٹا اسٹوریج کے نظام میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خرابی پورے ملکی مالیاتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ ان تمام ٹیکنالوجیز کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مرکزی بینک کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ اپنی نگرانی کے عمل میں ڈیٹا سیکیورٹی، رسک مینجمنٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کو شامل کرے۔ صرف روایتی بینکنگ نظام پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اب ان تیسرے فریقوں (Third-party tech partners) کی نگرانی بھی ضروری ہے جو بینکوں کو اہم انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مالیاتی استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ صارفین کا بینکنگ اور ڈیجیٹل لین دین پر اعتماد بھی بحال رہے گا۔ آخر میں، یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک جلد ہی نئی پالیسیوں کا اعلان کرے گا جس میں فن ٹیک اور کلاؤڈ سروسز کے لیے واضح ضوابط وضع کیے جائیں گے۔ مالیاتی ادارے اور ان کے تکنیکی شراکت دار اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ سخت سیکیورٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد کریں، تاکہ مستقبل کے کسی بھی بڑے مالیاتی بحران سے بچا جا سکے۔ یہ اقدامات طویل مدت میں ملکی معیشت کو ڈیجیٹل دور کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی ثابت ہوں گے۔