World
برطانیہ میں خطرناک ڈرائیونگ کا رجحان: حکومت کا سخت ردعمل
برطانوی حکومت نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تفریح کے لیے خطرناک ڈرائیونگ کے رجحان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔ پولیس حکام نے ان واقعات کے پیچھے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ملوث ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ میں حال ہی میں سڑکوں پر خطرناک ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کے حوالے سے حکومت نے انتہائی سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ محض ویڈیوز بنانے، کلپس حاصل کرنے اور انٹرنیٹ پر تفریح کے لیے جان لیوا ڈرائیونگ کرنا انتہائی شرمناک اور ناقابل قبول عمل ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خطرناک ڈرائیونگ کو 'گیم' کی طرح پیش کرنا نوجوانوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ اور آئرلینڈ میں حال ہی میں غلط سمت میں گاڑی چلانے کے باعث پیش آنے والے المناک حادثات میں 12 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مڈلزبرو میں پیش آنے والا ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ، جس میں دو پولیس افسران کی موت واقع ہوئی، اس وقت ملک بھر میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پولیس تحقیقات کے مطابق، ان میں سے کئی واقعات محض ڈرائیونگ کی غلطی نہیں بلکہ اس کے پیچھے منظم جرائم پیشہ عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر 'وائرل' ہونے کی خواہش نے ڈرائیونگ کلچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ نوجوان ڈرائیورز کلپس حاصل کرنے کے لیے ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی اپنی بلکہ سڑک پر چلنے والے دیگر شہریوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ حکومتی سطح پر اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس طرح کے مواد کو روکنے کے لیے مزید ذمہ دار بنایا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تنبیہ کی ہے کہ خطرناک ڈرائیونگ کو فروغ دینے والوں اور اس کا تماشا بنانے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
برطانیہ میں اس مسئلے پر بحث جاری ہے کہ آیا موجودہ قوانین اس نئے ڈیجیٹل خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ سڑکوں پر نظم و ضبط کو بحال کرنے کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے اور ایسی ویڈیوز کو فوری طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی خطرناک سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔