LIVE
Loading Breaking News...

امریکی حکومت کا پناہ گزینوں کے ویزے منسوخ کرنے کا بڑا فیصلہ

News Image
امریکی حکومت نے تقریباً دو لاکھ پناہ گزینوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام امریکی تاریخ میں ویزوں کی منسوخی کا اب تک کا سب سے بڑا اجتماعی عمل ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور بڑے اقدام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے تحت تقریباً دو لاکھ ایسے افراد کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے امریکا میں پناہ کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق، اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ امریکی تاریخ میں کسی بھی ایک وقت میں ویزوں کی منسوخی کا سب سے بڑا اجتماعی اقدام ہوگا، جس کے امیگریشن قوانین پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ جن افراد نے پناہ گزین کی حیثیت سے اپنی درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں، ان کے پاس موجود سیاحتی یا کاروباری ویزوں کا جواز باقی نہیں رہتا، کیونکہ پناہ کا متلاشی شخص درحقیقت مستقل رہائش کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد امیگریشن کے نظام کو مزید سخت بنانا اور ان افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے جو قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ویزے کے غلط استعمال کے مرتکب ہوتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے سے ان ہزاروں افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی قانونی کارروائیوں کے منتظر ہیں۔ ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر ویزوں کی منسوخی سے نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، یہ اقدام اُن افراد کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کرے گا جو پہلے ہی طویل عرصے سے اپنے کیسز کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر باقاعدہ ضوابط جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے بعد ان متاثرہ افراد کو نوٹسز بھیجے جانے کا امکان ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور امیگریشن حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اگلے چند ماہ کے دوران شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر کی نئی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے پر عمل درآمد کے بعد ممکنہ عدالتی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔