World
کانگو میں 2028 کے انتخابات: صدر شیسکیدی کی اصلاحات پر سیاسی رسہ کشی
صدر فیلکس شیسکیدی کی جانب سے प्रस्तावित آئینی اصلاحات نے کانگو کی سیاست میں ایک نئی بحث اور شدید کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد 2028 کے صدارتی انتخابات کو اپنے حق میں کرنا ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو (DRC) میں سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ صدر فیلکس شیسکیدی کی جانب سے ملک کے آئین میں مجوزہ اصلاحات ہیں۔ یہ معاملہ 2028 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے ارد گرد گھوم رہا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں اور سول سوسائٹی کے ارکان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان اصلاحات کا حتمی مقصد صدر شیسکیدی کے اقتدار کو طوالت دینا اور آئندہ انتخابات کے نتائج کو متاثر کرنا ہے۔ ملکی سیاست میں اس نئی ہلچل نے ایک وسیع تر آئینی جنگ کو جنم دیا ہے جو کانگو کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
صدر شیسکیدی کی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اصلاحات ملک کے انتظامی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومتی امور میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہیں۔ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ آئینی بندشیں بعض اوقات ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، لہذا ان میں ترمیم وقت کا تقاضا ہے۔ تاہم، ناقدین اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'جمہوری پسپائی' قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ایسی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں جن سے آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کو تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے یکطرفہ طور پر آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی دباؤ کے باعث کانگو کی نازک جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کی نظریں بھی کانگو کی اس سیاسی کشمکش پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی قسم کا سیاسی عدم استحکام وسطی افریقہ کے اس بڑے ملک کی سلامتی اور معاشی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔
آئندہ کچھ مہینے کانگو کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، جہاں سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف پر سمجھوتہ کرنے یا پھر ایک طویل سیاسی تصادم کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ فی الحال، حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ صدر شیسکیدی اس آئینی چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں اور آیا 2028 کے انتخابات شفاف اور منصفانہ بنیادوں پر منعقد ہو پائیں گے یا نہیں۔