LIVE
Loading Breaking News...

تیونس میں کشتی حادثہ، تارکین وطن کی ہلاکتوں پر عوام سڑکوں پر

News Image
تیونس کے شہر بن قردان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے کے بعد پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہیں۔
شمالی افریقی ملک تیونس کے ساحلی شہر بن قردان میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب تارکین وطن کی ایک کشتی سمندر کی لہروں کی نذر ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں کم از کم 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ کشتی میں سوار دیگر افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اس واقعے نے علاقے میں پہلے سے موجود شدید غم و غصے کو ہوا دی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس الم ناک واقعے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور مشتعل ہجوم کی جانب سے توڑ پھوڑ اور نعرے بازی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کشتی میں کل 15 افراد سوار تھے، جن میں سے چند افراد کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن زیادہ تر افراد گہرے پانیوں میں ڈوب گئے۔ بحریہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے کشتی کے ملبے اور لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کے لیے سمندر میں سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تیونس طویل عرصے سے یورپ جانے کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے ایک اہم راہداری اور مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ اکثر انسانی اسمگلر خستہ حال کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کو سوار کر کے خطرناک سمندری سفر پر روانہ کر دیتے ہیں، جو اکثر المناک انجام پر ختم ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے تیونس کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں تاکہ مستقبل میں ایسی اموات کو روکا جا سکے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مقامی لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے کیونکہ مرنے والے تارکین وطن میں اکثر مقامی نوجوان بھی شامل ہوتے ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کا انتخاب کرتے ہیں۔ فی الحال، حکومت نے متاثرہ علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔