LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کو سمندر پار پاکستانیوں کی قونصلر خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن پر بریفنگ

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سمندر پار پاکستانیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے قونصلر خدمات کو ڈیجیٹل بنانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے تصدیق کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کو وزارتِ خارجہ کے حکام کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بہتر اور جدید قونصلر خدمات کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں دستاویزات کی تصدیق اور بیرون ملک سے رقوم کی ترسیل کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت متعدد وفاقی وزراء، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ دنیا بھر میں تعینات پاکستان کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک انتہائی آسان اور جدید میکانزم تیار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیداد کی خرید و فروخت اور دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کی خاطر پہلے ہی کیو آر کوڈ (QR Code) پر مبنی نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے اس ڈیجیٹل نظام کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کیو آر کوڈز کو تمام پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے تاکہ عوام کی رسائی آسان ہو سکے۔ انہوں نے ایک خصوصی آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے وزارتِ خارجہ میں اب شام کی شفٹ بھی شروع کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد کے آسان خدمت مرکز پر بھی دستاویزات کی تصدیق کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ نادرا، ایچ ای سی اور دیگر اہم قومی اداروں کے ڈیٹا بیس کے ساتھ اس نظام کو مربوط کرنے سے تصدیق کا عمل مزید تیز اور شفاف ہو گیا ہے۔ اپوسٹیل سسٹم کے تحت تصدیق کے عمل کو ون سٹیپ پروسیجر میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس سے شہریوں کا وقت بچتا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے تعاون سے ایک موبائل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے جس کے ذریعے پیدائش، موت اور نکاح نامے جیسے سرکاری دستاویزات بھی گھر بیٹھے ڈیجیٹل طور پر تصدیق کروائے جا سکیں گے۔