Business
ہانگ کانگ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اور ناردرن میٹروپولیس کی صورتحال
ہانگ کانگ کے ناردرن میٹروپولیس منصوبے کو بلند قیمتوں اور نقل و حمل کے محدود ذرائع کی وجہ سے فروخت میں جمود کا سامنا ہے۔ حکومتی دعووں کے باوجود سرمایہ کاروں اور خریداروں کی دلچسپی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
ہانگ کانگ کا عظیم الشان منصوبہ 'ناردرن میٹروپولیس' جو شہر کے مستقبل کے لیے ایک بڑی تکنیکی اور رہائشی حب کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس وقت سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس علاقے میں نئے گھروں کی فروخت کی رفتار کافی سست ہے، جس کی بنیادی وجہ پراپرٹی کی بلند قیمتیں اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تاحال موجود مسائل ہیں۔ حکام کو امید تھی کہ یہ منصوبہ مقامی معیشت میں ایک نئی روح پھونکے گا، لیکن حقیقت میں خریداروں کی جانب سے متوقع ردعمل نہیں مل رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ علاقے کی جغرافیائی صورتحال اور شہر کے دیگر حصوں کے ساتھ رابطے کے محدود ذرائع اس سستی کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگرچہ حکومت اس منصوبے کو ہانگ کانگ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتی ہے، لیکن سرمایہ کار اب یہاں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ہائی ٹیک انڈسٹری کے لیے مختص یہ علاقہ ابھی تک کاروباری افراد اور رہائشیوں کے لیے اتنا کشش نہیں رکھتا جتنی توقع کی گئی تھی۔ پراپرٹی ڈویلپرز بھی اب بلند قیمتوں کی وجہ سے فروخت میں حائل رکاوٹوں کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔ شہریوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کے بغیر، اس علاقے میں رہائش اختیار کرنا مشکل ہے۔ ہانگ کانگ کی حکومت اب اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ناردرن میٹروپولیس کے اس وژن کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں، حکومت کی جانب سے قیمتوں میں رعایت یا بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تیزی لانے جیسے اقدامات کی ضرورت ہوگی، بصورت دیگر اس منصوبے کی کامیابی سوالیہ نشان بنی رہے گی۔