Business
کے پی ایم جی میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں: 400 ملازمین نوکری سے فارغ
نامور آڈٹ فرم کے پی ایم جی نے آڈٹ لیکس اسکینڈل کے بعد آمدنی میں کمی اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر اپنے مقامی ادارے سے 400 کے قریب ملازمین اور پارٹنرز کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی اب اپنی کاروباری ساخت کو بہتر بنانے کے لیے تنظیم نو کے عمل سے گزر رہی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ اکاؤنٹنگ اور کنسلٹنسی فرم 'کے پی ایم جی' (KPMG) نے حال ہی میں ایک بڑے کاروباری فیصلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کمپنی اپنے مقامی آپریشنز سے تقریباً 400 ملازمین کو نوکری سے نکال رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرم کو 'آڈٹ لیکس' اسکینڈل کے بعد شدید قانونی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس کٹوتی میں 27 پارٹنرز اور تقریباً 360 دیگر اسٹاف ممبران شامل ہیں، جنہیں فارغ کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
اس بڑے پیمانے پر چھانٹیوں کا بنیادی سبب کمپنی کی آمدنی میں نمایاں کمی ہے، جو کہ آڈٹ لیکس اسکینڈل کے بعد کئی اہم سرکاری اور نجی ٹھیکے منسوخ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد فرم کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں اسے مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کمپنی کو مستحکم کرنے اور مستقبل میں بہتر کارکردگی کے لیے ناگزیر تھے تاکہ ادارے کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔
کے پی ایم جی انتظامیہ اب اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس تنظیم نو کا مقصد نہ صرف اخراجات کو کم کرنا ہے بلکہ شفافیت کو یقینی بنانا بھی ہے تاکہ کلائنٹس کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور اعلیٰ عہدیداران اس بحران سے نکلنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اسکینڈل کے طویل المدتی اثرات سے نمٹنا فرم کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔
ملازمین کی برطرفی کا یہ عمل عالمی اکاؤنٹنگ انڈسٹری میں ایک بڑی ہلچل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق، آڈٹ فرمز کے لیے ساکھ اور رازداری سب سے اہم سرمایہ ہوتا ہے، اور جب اس طرح کے اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو اداروں کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کے پی ایم جی کے لیے آنے والے مہینے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا وہ اپنے نئے کاروباری ماڈل کے ذریعے دوبارہ مارکیٹ میں اپنی ساکھ بحال کر پاتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، کمپنی متاثرہ ملازمین کی مدد اور قانونی تقاضے پورے کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔