LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا خلائی مشن: 2030 تک 1000 خلائی لانچز کا پلان

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلائی شعبے میں امریکہ کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سال 2030 تک سالانہ ایک ہزار سے زائد خلائی مشنز بھیجنے کا نیا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مریخ پر روبوٹ اور انسانوں کو بھیجنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی خلائی پروگرام کو ایک نئی اور بلند سمت دینے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت حکومت نے 2030 تک سالانہ ایک ہزار سے زائد خلائی لانچز کرنے کا انتہائی مہتواکاںشی ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ منصوبہ خلائی صنعت میں امریکہ کی عالمی برتری کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے نہ صرف زمین کے مدار میں سیٹلائٹ نیٹ ورک کو پھیلایا جائے گا بلکہ گہری خلا کی تحقیق کے دروازے بھی کھولے جائیں گے۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ مریخ پر روبوٹک مشنز اور انسانوں کو بھیجنے کی رفتار کو بڑھانا ہے تاکہ انسانی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ سال 2025 کے دوران امریکہ کی جانب سے کل 178 خلائی لانچز کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر مشنز نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کی جانب سے کامیابی کے ساتھ انجام دیے گئے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ تعداد موجودہ صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ خلا تک رسائی کے نئے اور تیز ترین ذرائع تلاش کریں تاکہ لانچنگ کی لاگت میں کمی لائی جا سکے اور خلائی انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت نجی شعبے اور سرکاری خلائی ایجنسی ناسا کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ اہداف حاصل کر لیے گئے تو امریکہ دنیا بھر میں مواصلاتی نیٹ ورک، موسمیاتی پیش گوئیوں اور دفاعی نگرانی کے شعبوں میں ناقابل تسخیر قوت بن جائے گا۔ تاہم، اتنی بڑی تعداد میں خلائی مشنز بھیجنے کے لیے خلائی ٹریفک مینجمنٹ اور ماحول دوست ایندھن کے استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، جن پر حکومت کی جانب سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مستقبل کے اس وژن کے ساتھ ہی مریخ پر انسانی قدم رکھنے کا خواب بھی حقیقت کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا زور اس بات پر ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی میں ہونے والی سرمایہ کاری سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ہزاروں کی تعداد میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکی حکومت نجی کمپنیوں کے اشتراک سے 2030 تک اس بڑے ہدف کو کیسے عملی جامہ پہنائے گی اور اس سے عالمی خلائی مسابقت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔