Business
عالمی مارکیٹ اپ ڈیٹ: ایشیائی اسٹاکس میں گراوٹ اور اے آئی کا اثر
ایشیا پیسیفک کی ایکویٹیز میں معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی فیوچر مارکیٹ میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں آج مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس کے اثرات ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر نمایاں ہیں۔ ایم ایس سی آئی (MSCI) کا ایشیا پیسیفک ایکویٹیز انڈیکس 0.1 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی منڈیوں میں یہ گراوٹ سرمایہ کاروں کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں محتاط رویے کی عکاس ہے۔ خاص طور پر جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس، جو کہ اے آئی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، اس میں 1.2 فیصد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی میں جاری حالیہ پیشرفت کے باوجود، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کار منافع بخش ہونے کے لیے مارکیٹ کے حالات کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جس نے توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص پر دباؤ ڈالا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ایشیائی معیشتوں پر پڑ رہا ہے جو توانائی کی درآمد کے لیے بڑی حد تک عالمی منڈی پر انحصار کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہے کیونکہ وہ مرکزی بینکوں کی آئندہ کی پالیسیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس، امریکی ایکویٹی انڈیکس فیوچر میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔ مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں ہونے والے نقصانات کو بڑی حد تک کور کر لیا گیا ہے اور امریکی فیوچرز میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے پر مشتمل نیس ڈیک 100 (Nasdaq 100) کے کنٹریکٹس میں 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا کچھ حد تک اعتماد بحال ہوا ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے اور آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹس کا رجحان اقتصادی اشاریوں اور کارپوریٹ آمدنی کے اعلانات پر منحصر ہوگا۔