LIVE
Loading Breaking News...

سکولوں کی سکیورٹی کے لیے مسلح ڈرون کا استعمال شروع

News Image
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ایک دفاعی کمپنی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سکولوں میں فعال حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح ڈرون تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کولوراডো، فلوریڈا اور جارجیا کے متعدد سکول اس جدید حفاظتی نظام کو اپنانے والے پہلے ادارے ہوں گے۔
امریکہ میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور کسی بھی ناگہانی واقعے سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ ایک معروف دفاعی کمپنی نے رواں تعلیمی سال کے آغاز پر سکولوں میں مسلح ڈرون نصب کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کیمپس کے اندر فعال حملہ آوروں (ایکٹو شوٹرز) کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کو کولوراडो، فلوریڈا اور جارجیا کی مختلف ریاستوں کے منتخب سکولوں میں نافذ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے مسائل اور گن وائلنس کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے والدین اور تعلیمی حکام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کمپنی کے نمائندگان کے مطابق یہ ڈرون جدید سنسرز اور فوری ردعمل کی صلاحیت سے لیس ہوں گے، جو کسی بھی مشکوک سرگرمی یا ہنگامی صورتحال میں سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت مطلع کرنے اور کارروائی میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان ڈرونز کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو کم سے کم کرنا اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے فوری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، اس اقدام پر مختلف حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں کچھ ماہرین اور والدین اس ٹیکنالوجی کو سکولوں کے دفاع کے لیے ایک انقلابی اور ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض سول سوسائٹی کے ارکان اور ماہرین تعلیم بچوں کے ماحول میں مسلح ہتھیاروں یا ڈرون ٹیکنالوجی کے اس طرح کے استعمال کے ممکنہ نفسیاتی اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود، متعلقہ سکول انتظامیہ اور دفاعی کمپنی کا اصرار ہے کہ موجودہ حالات میں طلباء اور عملے کی زندگیوں کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے اور یہ ٹیکنالوجی سکولوں کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ آنے والے مہینوں میں ان ریاستوں کے نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس نظام کو ملک بھر کے دیگر تعلیمی اداروں تک پھیلانے کا فیصلہ کیا جا سکے۔