LIVE
Loading Breaking News...

ریٹیلر اسکیم اور چھوٹے تاجروں کے لیے حکومتی اقدامات

News Image
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے ریٹیلر اسکیم کو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ حکومت چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملکی محصولات میں اضافہ ہو سکے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے حال ہی میں متعارف کرائی گئی ریٹیلر اسکیم کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسکیم چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے اپنے قومی فریضے کو سرانجام دینے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت چھوٹے تاجروں کی مشکلات سے بخوبی واقف ہے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدام نہ صرف قومی محصولات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ کاروبار کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ دوسری جانب، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کے لیے پیچیدہ ٹیکس ریٹرن فارمز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا عمل آسان ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فارمز کی پیچیدگی کے پیچھے کوئی منطق نہیں ہے اور حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے لیے آسانی پیدا کی جائے تاکہ وہ بلا جھجھک اپنے گوشوارے جمع کرا سکیں۔ اس بیان کو کاروباری حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے جو طویل عرصے سے ٹیکس کے عمل کو آسان بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تجزیہ کار میاں زاہد حسین نے بھی حکومت کی اس پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے اور 'آسان تاجر ایپ' کے اجراء کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایپ کے ذریعے چھوٹے تاجر اپنے ٹیکس کے معاملات کو گھر بیٹھے باآسانی نمٹا سکیں گے، جس سے ٹیکس وصولی کے عمل میں شفافیت آئے گی۔ پاکستان کی جانب سے چھوٹے تاجروں کے لیے 1 فیصد ٹیکس اسکیم کا آغاز معاشی اصلاحات کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ اقدامات معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ ملک کا انحصار محصولات کی بروقت وصولی پر ہے۔ اگرچہ یہ عمل ابتدائی طور پر کچھ چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے ثمرات چھوٹے تاجروں اور عام شہریوں تک پہنچیں گے۔ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تاجر برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔