LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور خطے میں امن کی کوششیں

News Image
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی امن کے قیام کے لیے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں خطے میں استحکام لانے کے لیے پاکستان کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی امن کی بحالی کے لیے تہران کا ایک اہم دورہ مکمل کیا ہے۔ اس دورے کو عالمی مبصرین خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کو درپیش چیلنجز اور دو طرفہ سیکیورٹی تعاون کو مستحکم کرنے پر غور کیا گیا۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے ایران روانگی سے قبل نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی رابطہ کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس بحران کے خاتمے کے لیے عالمی طاقتوں اور خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان خطے کے تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں بھی طویل المدتی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ تہران میں ہونے والی بات چیت میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے ممالک کو باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت کرے گا جس سے مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو۔ یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کے حالات ایک نازک موڑ پر ہیں اور عالمی برادری کسی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوششیں بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے عملی نتائج کس حد تک برآمد ہوتے ہیں۔