Pakistan
نیشنل بک فاؤنڈیشن میں قائداعظم اور اقبال کارنر کا قیام
وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر نے نیشنل بک فاؤنڈیشن میں قائداعظم اور علامہ اقبال کارنرز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کتاب بینی کے کلچر کو عام کرنے اور قومی ادبی ورثے کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کا دورہ کیا اور ادارے کی جانب سے کتابوں کے فروغ اور ملکی ادبی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی پرزور تعریف کی۔ اس موقع پر انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے احاطے میں خصوصی طور پر تیار کردہ 'قائداعظم کارنر' اور 'علامہ اقبال کارنر' کا افتتاح بھی کیا۔ یہ اقدام بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کردار پاکستان میں علمی اور ادبی ماحول کو پروان چڑھانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل دور میں بھی کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، اور ہمیں چاہیے کہ اپنی نوجوان نسل کو لائبریریوں اور کتابوں کے قریب لانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے نام سے منسوب ان کارنرز کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ فاؤنڈیشن قومی ہیروز کی فکر کو کتابوں کے ذریعے زندہ رکھنے میں کوشاں ہے۔
اس دورے کے دوران وجیہہ قمر نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور وہاں موجود ادبی مواد، تاریخی کتب اور علمی ورثے کی تزئین و آرائش کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر کتاب دوستی کے کلچر کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ ایک باشعور قوم ہی ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے۔ انہوں نے این بی ایف انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے حکام نے وزیر مملکت کو ادارے کے جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے وقتوں میں مزید ایسے علمی گوشے قائم کیے جائیں گے جہاں طلباء اور محققین اپنے قومی ورثے سے استفادہ کر سکیں۔ تقریب کے اختتام پر وزیر مملکت نے قومی ہیروز کی کتب اور ان کے افکار پر مبنی لٹریچر کو عام کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔