LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی وزیراعظم کی ٹرمپ سے ملاقات، یوکرین ایشو پر بات چیت کا امکان

News Image
برطانوی وزیراعظم کی جانب سے ستمبر میں دورہ امریکہ کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد یوکرین کی صورتحال پر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کرنا ہے۔ یہ جولائی میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا دورہ امریکہ ہوگا۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے جولائی میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار ستمبر میں امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم دورے کا بنیادی مقصد امریکی سیاسی حلقوں، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ تک یوکرین کے حوالے سے برطانوی موقف کو پہنچانا اور وہاں لابی کرنا ہے۔ اس دورے کو بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اس دورے کے دوران امریکی قیادت اور بااثر شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ یوکرین کے لیے جاری حمایت کو برقرار رکھنے اور اس میں مزید بہتری لانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متوقع ملاقات کو اس دورے کا کلیدی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانوی حکومت یوکرین کی صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن میں اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں یوکرین کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مغربی ممالک کا اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جولائی میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلا دورہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ایک موقع فراہم کرے گا۔ اگرچہ اس دورے کا ایجنڈا کثیر الجہتی ہے، تاہم یوکرین کا معاملہ سر فہرست رہے گا۔ برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو فوجی اور اقتصادی امداد دینے کا تسلسل جاری ہے اور وزیراعظم اس دورے کے ذریعے امریکی پالیسی سازوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں کہ یوکرین کی حمایت میں کسی بھی قسم کی کمی عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس دورے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برطانوی وزیراعظم امریکی سیاسی قیادت، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کس طرح کے تعلقات قائم کر پاتے ہیں۔ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات کے درمیان یہ دورہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک آزمائش سے کم نہیں ہوگا۔ ستمبر کے اس دورے سے نہ صرف یوکرین کے معاملے پر بلکہ دیگر عالمی مسائل پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔