LIVE
Loading Breaking News...

جشن عید میلاد النبی: عراق، لیبیا اور مراکش میں روح پرور اجتماعات

News Image
مختلف اسلامی ممالک سمیت عراق، لیبیا اور مراکش میں مسلمانوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یوم ولادت منایا۔ اس موقع پر خصوصی محافلِ نعت اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یوم ولادت باسعادت، عید میلاد النبی کے طور پر انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس مبارک دن کے موقع پر عراق، لیبیا اور مراکش سمیت دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں خصوصی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے نبی آخر الزماں ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔ مذکورہ ممالک کے مختلف شہروں میں مساجد، سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، جہاں چراغاں اور خصوصی تقاریب کا سلسلہ جاری رہا۔ ان اجتماعات کے دوران علمائے کرام اور مقررین نے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ، ان کے اخلاق حسنہ، امن و امان کے پیغام اور انسانیت کی فلاح کے لیے دی گئی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سیرت النبی ﷺ پر عمل پیرا ہونا ہی موجودہ دور کے تمام مسائل کا واحد حل ہے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس موقع پر کئی مقامات پر جلوس بھی نکالے گئے جن میں شرکاء نے نعت خوانی کی اور درود و سلام کے ورد سے فضا کو معطر رکھا۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو میلاد کی مبارکباد دی اور مستحقین میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ سماجی اور مذہبی تنظیموں نے اس موقع پر خصوصی لنگر کا اہتمام کیا جس میں غریب اور نادار افراد کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد، اخوت اور باہمی ہمدردی کا پیغام لے کر آتا ہے، جس کی جھلک ان اجتماعات میں واضح طور پر دیکھی گئی۔ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں عید میلاد النبی منانے کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں، مگر جذبہ ایک ہی ہے یعنی نبی کریم ﷺ سے بے پناہ عقیدت اور محبت کا اظہار۔ ان ممالک میں اس دن کی مناسبت سے سرکاری سطح پر بھی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں حکومتی عہدیداران اور مذہبی شخصیات نے شرکت کر کے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مجموعی طور پر یہ دن مسلمانوں کے لیے اپنے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کو تازہ کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے عزم کا تجدیدی دن ثابت ہوا۔