World
ہیٹی میں خوفناک گینگ حملہ: 30 افراد ہلاک
ہیٹی کے دارالحکومت کے قریب واقع پہاڑی علاقے میں ایک سفاکانہ گینگ حملے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ شہر کے اہم راستوں پر قابو پانے کے لیے کیا گیا جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے قریب واقع ایک اسٹریٹجک پہاڑی علاقے میں مسلح گروہوں کی جانب سے کیے گئے ایک سفاکانہ حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مقامی آبادی اپنے معمولات زندگی میں مصروف تھی، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید افراتفری اور خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بڑی تعداد میں آبادی کو نشانہ بنایا، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ دارالحکومت میں داخل ہونے والے اہم راستوں کی نگرانی کرتا ہے، جس کی وجہ سے گینگ گروہ اس پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے طویل عرصے سے کوشاں تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کتنی نازک ہو چکی ہے۔ ہیٹی کے دارالحکومت کے بیشتر حصوں پر پہلے ہی مختلف گینگز کا قبضہ ہے اور وہ شہر کے اہم انفراسٹرکچر اور تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں۔ حکومتی فورسز، جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں، ان منظم مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرے میں رہتی ہیں۔
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہری محفوظ رہ سکیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ہیٹی میں جاری اس بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے ان گینگز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو دارالحکومت کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ فی الحال علاقے میں پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ ہلاک شدگان کی شناخت اور لواحقین تک اطلاع پہنچانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔