Politics
قومی اسمبلی اجلاس: پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ، حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بائیکاٹ کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی کر دیا گیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں کی عدم موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلانے میں بری طرح ناکام رہی۔
اسلام آباد میں منعقدہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب پیپلز پارٹی کی جانب سے کارروائی میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کے باعث ایوان کا کورم پورا نہ ہو سکا۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بدانتظامی کے خلاف پیپلز پارٹی نے حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا براہ راست اثر پارلیمانی کارروائی پر مرتب ہوا ہے۔ اجلاس کے آغاز میں پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی، جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے گنتی کا حکم دیا اور کارروائی معطل کر دی، تاہم دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر بھی مطلوبہ 84 ارکان کی تعداد پوری نہ ہو سکی۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر واضح کیا کہ جب تک ان کی جماعت کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، تب تک مسلم لیگ ن کے ساتھ کورم پورا کرنے یا قانون سازی میں تعاون کا سلسلہ منقطع رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اب پیپلز پارٹی حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اپنی ذمہ داری نبھانے کی پابند نہیں ہے۔ اس صورتحال نے حکومتی بنچوں پر موجود ارکان کی تعداد پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں کیونکہ اپوزیشن ارکان کا دعویٰ ہے کہ صرف 20 سے 25 حکومتی ارکان کی موجودگی میں ایوان کو چلانا ناممکن تھا۔
اجلاس کے دوران سپیکر ایاز صادق نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سپیکر نے کہا کہ مقتولہ ماضی میں قومی اسمبلی کے ساتھ منسلک رہی تھیں، اس لیے یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وزارت قانون راولپنڈی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس کیس میں دو ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر حاصل کر لیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، تاہم سیاسی محاذ پر حکومت کو درپیش چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی اس سے قبل بھی حکومتی قانون سازی کی حمایت کرتی رہی ہے، لیکن اے جے کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے وفاقی اتحادیوں کے درمیان خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مسلم لیگ ن اپنی اتحادی جماعت کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے، کیونکہ کورم کا بار بار ٹوٹنا پارلیمنٹ کے وقار اور حکومتی قانون سازی کے عمل دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔