LIVE
Loading Breaking News...

سوشل میڈیا پر عمر کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی کا منصوبہ

News Image
نیوزی لینڈ حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز پر عمر کی سخت تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے ایک اہم قدم کے طور پر یہ تجویز زیر غور ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی (Digital ID) کا نظام متعارف کروایا جائے۔ یہ انکشاف 'نیو ٹاک زیڈ بی' کی جانب سے آفیشل انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کردہ دستاویزات سے ہوا ہے، جن سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر تعلیم ایریکا اسٹینفورڈ نے فروری کے آخر میں ہاسپیٹیلٹی نیوزی لینڈ کے نمائندوں کے ساتھ اس حوالے سے اہم مشاورت کی تھی۔ اس مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ پر موجود نابالغ افراد کو نامناسب مواد سے محفوظ رکھنا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، حکومتی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ صارفین کی عمر کی تصدیق باضابطہ حکومتی ریکارڈ یا ڈیجیٹل شناخت کے ڈیٹا بیس سے کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہنتا ہے تو یہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ ابھی تک اکثر پلیٹ فارمز اپنی سطح پر عمر کی تصدیق کے لیے مکمل طور پر خودکار نظام کے بجائے صارفین کی جانب سے دی گئی معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام بچوں کی حفاظت کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کے دوران پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل آئی ڈی کے استعمال کو محفوظ بنایا جائے تاکہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا لیک نہ ہو۔ وزیر تعلیم اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس منصوبے کے حتمی خدوخال کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اس بات کی عکاس ہیں کہ حکومت اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ عوامی حلقوں اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے بھی اس تجویز پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں ایک طرف بچوں کی آن لائن حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب ڈیجیٹل نگرانی کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی حکومت اس حوالے سے ایک جامع پالیسی سامنے لائے گی۔