Technology
ماریانا ٹرینچ میں دریافت ہونے والی نئی گہرے سمندر کی مچھلی
سائنسدانوں نے ماریانا ٹرینچ کی 8000 میٹر سے زائد گہرائی میں ایک نئی مچھلی دریافت کی ہے جسے ایبسل سنیل فش کہا جاتا ہے۔ یہ مچھلی شدید آبی دباؤ اور انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔
سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپے رازوں کو جاننے کے لیے سائنسدانوں کی کوششیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔ حال ہی میں، محققین نے ماریانا ٹرینچ کے تاریک اور انتہائی گہرے مقامات پر ایک نئی قسم کی مچھلی دریافت کی ہے، جسے ایبسل سنیل فش (Abyssal Snailfish) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مچھلی سائنسی طور پر 'سیوڈولائپس سوائری' (Pseudoliparis swirei) کہلاتی ہے اور یہ سمندر کی سب سے نچلی سطح پر پائے جانے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ اس دریافت نے سمندری حیات کے مطالعہ کرنے والے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ اتنے زیادہ آبی دباؤ میں کوئی جاندار کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔
یہ مچھلی ماریانا ٹرینچ میں 8,000 میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں رہتی ہے، جہاں سورج کی روشنی کا گزرنا ناممکن ہے اور پانی کا دباؤ انسانی جسم کو کچلنے کے لیے کافی ہے۔ اس شدید ماحول میں زندہ رہنے کے لیے اس مچھلی نے اپنے جسمانی ڈھانچے میں حیران کن تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اس کا جسم نیم شفاف اور نہایت لچکدار ہے، جو اسے انتہائی دباؤ کو برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی ہڈیاں نسبتاً نرم اور لچکدار ہیں، جو اسے سمندر کی تہہ میں تیراکی کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہ خاصیت اسے دوسرے جانداروں سے منفرد بناتی ہے جو سطح سمندر کے قریب رہتے ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق، ایبسل سنیل فش کا خوراک کا نظام بھی اسی گہرے ماحول کے مطابق ڈھل چکا ہے۔ یہ مچھلی چھوٹے چھوٹے سمندری جانداروں اور چھوٹے کیڑوں پر گزارا کرتی ہے جو اس گہرائی میں پائے جاتے ہیں۔ ماریانا ٹرینچ کے اس تاریک ماحول میں غذا کی کمی ہونے کے باوجود، یہ مچھلی اپنی توانائی بچانے کی ماہر ہے۔ اس کی دریافت سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ زندگی انتہائی ناموافق حالات میں بھی اپنا راستہ کیسے تلاش کر لیتی ہے۔
محققین اب اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ اس مچھلی کے خلیات اور پروٹین کس طرح اس شدید دباؤ اور سردی میں اپنی فعالیت برقرار رکھتے ہیں۔ یہ دریافت نہ صرف سمندری حیات کے ارتقاء کو سمجھنے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی اور بائیو میڈیکل تحقیق کے لیے بھی نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ سمندر کی تہہ ابھی بھی دنیا کا سب سے پراسرار حصہ ہے، اور ایبسل سنیل فش کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین پر ابھی بھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔