LIVE
Loading Breaking News...

سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی: تائیوان کی خام مال میں خود انحصاری کی جانب پیش قدمی

News Image
تائیوان کا انڈسٹریل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں خام مال کی مقامی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی چین کے بحرانوں کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے کو محفوظ بنانا ہے۔
تائیوان کی جانب سے سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں خود انحصاری کے حصول کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ انڈسٹریل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ITRI) نے 21 اگست کو جاری کردہ ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ سیمی کنڈکٹر خام مال اور ضروریات زندگی (consumables) کی مقامی تیاری کے عمل کو وسعت دے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی بھی عالمی سپلائی چین کے تعطل سے بچا جا سکے اور ملک کی برآمدی قوت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ ITRI کے عہدیداروں کے مطابق یہ سفر چھوٹے کنزیوم ایبلز سے شروع ہو کر زیادہ قیمت والی فزیکل میٹریلز کی تیاری تک جاری رہے گا۔ اس منصوبے کے تحت تائیوان کی حکومت اور نجی شعبے کے مابین گہرا تعاون جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، گیسز اور دیگر بنیادی اشیاء کی مقامی دستیابی سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ تائیوان کی ٹیکنالوجی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں زیادہ تیزی سے ڈیلیوری کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ اس سلسلے میں تحقیق اور ترقی (R&D) کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بھی بڑھایا گیا ہے تاکہ جدید ترین مواد کی تیاری کے لیے ملکی ماہرین کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔ تائیوان کے آئی ٹی آر آئی حکام نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر چپ سازی کی دوڑ میں جو ملک اپنے خام مال میں خود کفیل ہوگا وہی مستقبل کی ٹیکنالوجی پر راج کرے گا۔ تائیوان، جو پہلے ہی چپس سازی میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے، اب اپنی سپلائی چین کو مزید فول پروف بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پیش رفت آنے والے برسوں میں عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں تائیوان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گی اور اسے کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھے گی۔ اس سارے عمل میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔