LIVE
Loading Breaking News...

اے ایس ای کا اے آئی منافع کو سیمی کنڈکٹر آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ

News Image
اے ایس ای کے سربراہ نے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے لیے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے منافع کو جدید پیکیجنگ اور مواد کی تحقیق پر لگانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مستقبل کی چپ سازی میں سی پی او اور پی ایل پی ٹیکنالوجیز کلیدی کردار ادا کریں گی۔
سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے معروف ادارے اے ایس ای (ASE) کے سربراہ ہوانگ نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) سے حاصل ہونے والے بھاری منافع کو سی پی او (CPO) اور پی ایل پی (PLP) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی پر خرچ کیا جائے۔ ہوانگ کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے چپ مینوفیکچرنگ کے عمل 2 نینو میٹر (2nm) کی جانب بڑھ رہے ہیں، جدید پیکیجنگ اور ہیٹروجینیس انٹیگریشن کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں سیمی کنڈکٹر مواد اب محض سپلائی چین کا حصہ نہیں رہے بلکہ ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابیوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں 'سیمی' (SEMI) کی جانب سے ایک نئے گروپ کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں مواد کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اسے ٹیکنالوجیکل بریک تھرو کے لیے مرکز میں لانا ہے۔ ہوانگ کے مطابق، موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مانگ میں اضافے نے چپ سازی کے شعبے کو نئی جہتیں فراہم کی ہیں، تاہم ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سی پی او یعنی کو-پیکجڈ آپٹکس اور پی ایل پی یعنی پینل لیول پیکیجنگ جیسی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے۔ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف چپس کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گی بلکہ ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا سنگم ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہوانگ کا یہ بیان انڈسٹری کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ کمپنیاں صرف شارٹ ٹرم منافع پر توجہ دینے کے بجائے مستقبل کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے آر اینڈ ڈی (R&D) کے بجٹ میں اضافہ کریں۔ سی پی او اور پی ایل پی ٹیکنالوجیز کا فروغ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں اگلی بڑی لہر ثابت ہو سکتا ہے، جس سے چپس کی تیاری میں درپیش پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے گا اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ممکن ہو سکے گا۔